وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے اسرائیلی اور آسٹریلوی ہم منصب سے فون پر کی بات، مغربی ایشیا کے تنازعہ پر تبادلہ خیال
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل (14 اپریل) کو اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سار سے بات کی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور مغربی ایشیا کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر ہندوستان مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔ وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے منگل (14 اپریل) کو اپنے اسرائیلی ہم منصب گیدون سار سے بات کی اور ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی اور مغربی ایشیا کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ ایس جے شنکر نے آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ کے ساتھ بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی اور ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
جے شنکر کے ساتھ اپنی گفتگو کے بعد گیدون سار نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو نقصان پہنچانے والے ایران کے اقدامات پر کارروائی کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’آج دوپہر اسرائیل کے وزیر خارجہ سار کے ساتھ ٹیلی فون پر بات ہوئی، جس میں ہم نے مغربی ایشیا کی صورتحال کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘
اسرائیلی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ’’ہم نے ایران، آبنائے ہرمز اور لبنان پر بات کی۔ میں نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے والی شرائط پر مذاکرات میں امریکہ کا مضبوط موقف پوری عالمی برادری کے لیے ضروری ہے۔‘‘ انہوں نے ہندوستان سمیت تمام ممالک کے لیے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی آزادی پر زور دیا۔ حالانکہ جے شنکر کی سوشل میڈیا پوسٹ میں ایران کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ہے۔
ایران نے ہندوستان کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ کسی حد تک کھول دیا ہے، لیکن ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحریہ کی ناکہ بندی کی وجہ سے ہندوستان کو ایران کی جانب سے ملنے والا اجازت نامہ بھی خطرے میں پڑ گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کی آمد و رفت روکنے کے بعد، امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کے باہر ناکہ بندی کا حکم دے دیا ہے، جس سے ایران کی اجازت سے آنے والے جہازوں پر بھی خطرات منڈلانے لگے ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ ایران کی جانب سے اس سمندری راستے پر پابندی کے بعد عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور ایل این جی کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔