بیرون ممالک سے سونا اور چاندی کی برآمدگی اچانک ہوئی بند، کسٹم میں کیوں پھنس گیا سارا مال؟

ہندوستان میں کون سا بینک بیرون ملکی سونا-چاندی منگا سکتا ہے، یہ فیصلہ ریزرو بینک کرتا ہے۔ اس کی ایک لسٹ وزارتِ کامرس کے تحت کام کرنے والا ڈی جی ایف ٹی ہر مالی سال کے شروع میں جاری کرتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>زیورات کی خریداری کا منظر</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی بینکوں نے فی الحال بیرون ملک سے سونا اور چاندی منگوانا مکمل طور پر روک دیا ہے۔ حالات یہ ہیں کہ کئی ٹن سونا اور چاندی ملک کی بندرگاہوں پر پہنچ چکا ہے، لیکن کسٹم محکمہ کی منظوری نہ ملنے کی وجہ سے وہیں پھنسا ہوا ہے۔ یعنی بازار میں باہر سے نیا مال آنا بند ہو گیا ہے۔ چونکہ ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً پورا سونا اور چاندی بیرون ملک سے ہی خریدتا ہے (دنیا میں ہم سونے کے دوسرے سب سے بڑے اور چاندی کے سب سے بڑے خریدار ہیں)، اس لیے اس رکاوٹ سے ملک کے صرافہ بازاروں میں قلت ہونے کا اندیشہ ہے۔

دراصل، ہندوستان میں کون سا بینک بیرون ملک سے سونا اور چاندی منگوا سکتا ہے، یہ ریزرو بینک طے کرتا ہے۔ اس کی ایک فہرست وزارت تجارت کے تحت کام کرنے والا ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (ڈی جی ایف ٹی) ہر مالی سال کے آغاز میں جاری کرتا ہے۔ پچھلا حکم اپریل 2025 میں آیا تھا، جس کی معیاد 31 مارچ کو ہی ختم ہو چکی ہے۔


اصول کے مطابق اپریل کے پہلے ہفتہ میں نیا حکم آ جانا چاہیے تھا، لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی نیا ہدایت نامہ جاری نہیں ہوا ہے۔ حکم نہ ہونے کی وجہ سے کسٹم محکمہ مال جاری نہیں کر رہا ہے۔ ممبئی کے بلین ڈیلرز کے مطابق تقریباً 5 ٹن سونا اور 8 ٹن چاندی کسٹم کلیئرنس کے بغیر پھنسا ہوا ہے۔ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ جب تک پرانا مال نہیں نکلتا، تب تک بینکوں نے بھی غیر ملکی سپلائرز کو نئے آرڈر دینا بند کر دیا ہے۔

معاشیات کا سیدھا سا اصول ہے کہ جب بازار میں کسی چیز کی سپلائی کم ہوتی ہے اور طلب برقرار رہتی ہے تو اس کی قیمت بڑھنے لگتی ہے۔ انڈیا بلین اینڈ جویلرز ایسوسی ایشن (آئی بی جے اے) کے مطابق اگر درآمد پر جلد صورتحال واضح نہیں ہوئی اور مال جاری نہیں ہوا تو بازار میں سونے اور چاندی کی کمی ہو جائے گی۔ ’اکشے ترتیہ‘ جیسے بڑے تہوار پر جب لوگ خریداری کے لیے نکلیں گے تو سپلائی کم ہونے کی وجہ سے جویلرز صارفین سے بھاری ’پریمیم‘ (طے شدہ قیمت سے زیادہ قیمت) وصول کر سکتے ہیں۔ فی الحال بازار میں پرانے اسٹاک اور ای ٹی ایف (ایکسچینج ٹریڈڈ فنڈز) کی فروخت سے کام چل رہا ہے، لیکن یہ طویل مدت تک بازار کی طلب پوری نہیں کر پائے گا۔


مارکیٹ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس کے پیچھے حکومت کی ایک سوچی سمجھی معاشی حکمت عملی ہو سکتی ہے۔ اس وقت عالمی بازار میں، خاص طور پر ایران تنازعہ کے باعث خام تیل، گیس اور کھاد کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں۔ ہندوستان کو یہ سب بڑی مقدار میں بیرون ملک سے منگوانا پڑتا ہے، جس سے اپریل میں ملک کا ’امپورٹ بل‘ (درآمدی خرچ) کافی بڑھنے کا اندیشہ ہے۔ ایسے میں تجارتی خسارے (ٹریڈ ڈیفیسٹ) کو قابو میں رکھنے اور ڈالر کے مقابلے میں مسلسل کمزور ہوتے ہندوستانی روپے کو سنبھالنے کے لیے حکومت شاید قصداً سونے اور چاندی کی درآمد کو سست کرنا چاہتی ہے۔ حکام نے حال ہی میں ریفائنریوں سے بھی ڈالر کی خریداری کم کرنے کو کہا ہے تاکہ روپے کو سہارا مل سکے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔