مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی گئی اسرائیلی اشیاء پر لیبل لگایا جائے، یورپی عدالت

اسرائیلی یہودی آبادیوں سے آنے والی اشیائے خوراک پر خصوصی لیبل لگایا جائے تاکہ صارفین خریداری کے وقت اخلاقی معاملات سے آگاہ ہوں۔ یہ حکم یورپی یونین کی اعلیٰ ترین عدالت نے دیا ہے۔

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی گئی اسرائیلی اشیاء پر لیبل لگایا جائے، یورپی عدالت
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی گئی اسرائیلی اشیاء پر لیبل لگایا جائے، یورپی عدالت
user

ڈی. ڈبلیو

یورپیئن کورٹ آف جسٹس (ECJ) نے اپنے آج منگل 13 نومبر کو ایک فیصلے میں کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بسائی گئی یہودی بستیوں سے آنے والی اشیائے خوردونوش پر ان کی پیداوار کے مقام کا اسٹیکر لگایا جائے۔ یورپی یونین کی اس اعلیٰ ترین عدالت کے حکم میں کہا گیا ہے کہ یونین کے رکن ممالک خوردہ فروشوں کے لیے یہ لازمی بنائیں کہ وہ فلسطینی علاقوں میں بنائی گئی یہودی بستیوں میں تیار کردہ اشیاء کی شناخت کو یقینی بنائیں۔

یہ معاملہ سیاسی طور پر باعث تنازعے ہے کیونکہ اسرائیل سمجھتا ہے کہ یہودی آبادیوں میں تیار کی گئی اشیاء پر خصوصی لیبل لگانا امتیازی عمل ہے اور اسی باعث اسے اس پر شدید اعتراض ہے۔

فرانس کے مستغیث اعلیٰ نے ای سی جی سے 2016ء میں فرانس کی طرف سے تیار کردہ گائیڈ لائنز کے بارے میں وضاحت چاہی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ فسلطینی علاقوں ویسٹ بینک اور گولان ہائٹس کے علاقوں میں تعمیر کی گئی یہودی بستیوں میں تیار ہونے والی اشیائے خورد ونوش پر خصوصی لیبل لگائے جائیں جن پر ان کے تیاری کی جگہ کی شناخت ہو سکے۔ ان اصولوں کو یورپین جوئش آرگنائزیشن اور Psagot نامی کمپنی نے چیلنج کیا تھا۔ یہ کمپنی مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انگوروں کے باغ کی مالک ہے۔

ان گروپوں کو خدشہ تھا کہ اس طرح کے لیبل لگانے سے لوگ ان مصنوعات کا بائیکاٹ کریں گے بالکل اسی طرح جیسے 'بائیکاٹ، ڈیویسٹمنٹ اینڈ سینکشنز‘ (BDS) نامی مہم اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کی اپیل کرتی ہے۔ اسرائیل اس مہم کو سامیت مخالف مہم قرار دیتا ہے۔

فلسطینی تنظیم آزادی کے سیکرٹری جنرل صائب برکات نے پورپی عدالت کے فیصلے کو 'قانوی اور سیاسی ذمہ داری‘ قرار دیا ہے۔

ای سی جی کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں تیار کی جانے والی اشیاء پر محض 'اسرائیل میں بنی ہوئی‘ اشیاء کا لیبل لگانے سے صارفین دھوکے کا شکار ہو سکتے ہیں کہ جن علاقوں میں وہ تیار ہوئی ہیں اسرائیل کا ان پر قانونی حق ہے، اس حقیقت کے برخلاف کے اسرائیل نے ان پر قبضہ کیا ہوا ہے۔