نیپال میں ایولانچ، اتراکھنڈ میں شدید برف باری و لینڈسلائیڈ، اتر پردیش و بہار میں سیلاب اور بارش کی تباہی

اتر پردیش میں گزشتہ 3 دنوں سے مسلسل بارش اور آندھی و طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 56 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں دریاؤں میں طغیانی ہے اور سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>بہار سیلاب / آئی اے این ایس</p></div>
i

نیپال سے لے کر اتر پردیش، اتراکھنڈ، اڈیشہ اور تھائی لینڈ تک شدید بارش، سیلاب اور زمین کھسکنے کے واقعات نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ نیپال میں جہاں زمین کھسکنے سے کئی لوگوں کی جانیں چلی گئی ہیں، وہیں اتر پردیش میں بھی شدید جانی و مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ نیپال میں گزشتہ چند دنوں کے دوران بارش سے متعلق واقعات میں 21 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ منانگ ضلع میں ایولانچ یعنی برفانی تودہ گرنے سے 2 لوگوں کی موت ہو گئی اور 10 افراد لاپتہ ہیں۔

اتر پردیش میں گزشتہ 3 دنوں سے مسلسل بارش اور آندھی و طوفان کے باعث مختلف حادثات میں 56 لوگوں کی موت ہو چکی ہے۔ ریاست کے کئی اضلاع میں دریاؤں میں طغیانی ہے اور سیلاب جیسے حالات پیدا ہو گئے ہیں۔ غازی پور، ایودھیا، سیتاپور اور لکھیم پور کھیری سمیت کئی علاقوں میں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں اور ہزاروں مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔ وارانسی میں گنگا ندی کی سطح آب مسلسل بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے گھاٹوں اور نشیبی علاقوں میں پانی بھرنے لگا ہے۔ خطرے میں اضافے کے پیش نظر انتظامیہ نے حفاظتی اقدامات کے طور پر کشتیوں کی آمد و رفت پر پابندی لگا دی ہے۔


دوسری طرف بہار اور جھارکھنڈ کے کئی اضلاع میں مسلسل بارش ہو رہی ہے، جس کی وجہ سے لوگ سیلاب جیسے حالات سے دوچار ہیں۔ مغربی بنگال میں بھی بارش سے حالات خراب ہیں۔ ایسے میں انتظامیہ نے ماہی گیروں کو دریاؤں سے دور رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ اتراکھنڈ کے کئی اضلاع میں بھی شدید بارش اور بالائی علاقوں میں برف باری سے حالات خراب ہیں۔ محکمہ موسمیات نے چمولی، رودرپریاگ، چمپاوت، نینی تال اور پوڑی اضلاع میں انتہائی شدید بارش کا ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ دہرادون سمیت کئی اضلاع میں اورنج الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ کیدارناتھ پیدل راستے پر چرباسا علاقے میں زمین کھسکنے کے واقعے کی زد میں آنے سے ایک بچے کی موت ہو گئی اور ایک شخص زخمی ہو گیا۔ وہیں پوڑی کے تھلی سین میں مکان منہدم ہونے سے بل ویر سنگھ نامی ایک شخص ملبے میں دب کر ہلاک ہو گیا۔ رشی کیش کے قریب دریائے گنگا کی سطح آب تیزی سے بڑھنے کے باعث دریا میں رافٹنگ کی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ گڑھوال کے کمشنر آنند سوروپ کے حکم کے مطابق خراب موسم کو دیکھتے ہوئے اتوار کو بھی چار دھام یاترا ملتوی رہی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق شدید بارش اور برف باری کی وجہ سے ہمالیہ کے بالائی علاقوں میں 136 کوہ پیما، ٹریکرز اور پورٹرز پھنس گئے ہیں۔ ضلع انتظامیہ، ایس ڈی آر ایف اور پولیس کی مشترکہ ٹیمیں انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن چلا رہی ہیں۔ اڈیشہ کے حالات بھی تشویشناک بتائے جا رہے ہیں۔ یہاں خلیج بنگال کے قریب بننے والے گہرے دباؤ کے باعث 13 اضلاع میں موسلا دھار بارش سے سیلاب جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی سروے کیا ہے اور راحت کیمپوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے کھانا، صاف پانی اور طبی سہولیات کے پختہ انتظامات کرنے کی ہدایات دی ہیں۔ مہاندی اور سبرن ریکھا دریاؤں کی سطح آب بڑھنے سے نشیبی علاقوں میں پانی بھر گیا ہے، جس کے باعث ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔


پڑوسی ملک نیپال میں بھی شدید بارش نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں سیلاب، زمین کھسکنے اور آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں 21 لوگوں کی جان جا چکی ہے۔ پالپا ضلع میں ایک مکان پر مٹی کا تودہ گرنے سے ایک ہی خاندان کے 5 افراد کی موت ہو گئی۔ اس کے علاوہ روپندیہی اور چتوان اضلاع میں دریا خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیکڑوں مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ راحت اور بچاؤ کے کاموں میں مصروف حفاظتی دستوں نے اب تک 1200 سے زیادہ لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا ہے۔ علاوہ ازیں نیپال کے منانگ واقع 7126 میٹر بلند ہملنگ ہمال چوٹی کے بیس کیمپ پر ایک بڑا برفانی تودہ گرا۔ اس برفانی تودے کی زد میں ایک کیمپ آ گیا، جس میں 9 کوہ پیما اور 13 معاون عملہ موجود تھا۔ پولیس کے مطابق اس حادثے میں 2 لوگوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ 10 نیپالی شہری اب بھی لاپتہ ہیں۔

بات تھائی لینڈ کی کریں، تو وہاں بھی شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے ہزاروں لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ مشکل حالات کے درمیان راحت اور بچاؤ کے کاموں کے لیے فوج کی تعیناتی کی گئی ہے۔ انتظامیہ نے لوگوں سے محتاط رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔