بین الاقوامی بحری راستوں پر حملے ناقابل قبول، دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس ضروری: آسیان فورم میں وزیر خارجہ جے شنکر

جے شنکر نے کہا کہ حالیہ دنوں میں ہندوستان نے سری لنکا، فلپائن اور جمیکا میں آنے والے سمندری طوفانوں، میانمار، وینزویلا اور افغانستان میں آنے والے زلزلوں کے بعد بحالی اور امدادی کاموں میں تعاون کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایس جے شنکر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستان کے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے منیلا میں منعقدہ 33ویں آسیان علاقائی فورم کی وزارتی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہازوں اور سویلین بنیادی ڈھانچے پر حملے مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین الاقوامی بحری راستوں سے ہونے والی تجارت محفوظ، بلا رکاوٹ اور آزادانہ طور پر جاری رہنی چاہیے۔

اجلاس کے بعد سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ انہوں نے منیلا پلان آف ایکشن کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے پانچوں اہم ستون ہندوستان کے انڈو-پیسفک وژن سے ہم آہنگ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہندوستان قدرتی آفات سے نمٹنے کے شعبے میں تعاون پر مبنی نقطہ نظر اپنانے، بہترین طریقوں کا تبادلہ کرنے، مشترکہ اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجرز (ایس او پی) تیار کرنے اور ریئل ٹائم و ٹیبل-ٹاپ مشقیں منعقد کرنے کی حمایت کرتا ہے۔‘‘


وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بتایا کہ ’’ہندوستان کولیشن فار ڈیزاسٹر ریزیلیئنٹ انفراسٹرکچر(سی ڈی آر آئی) کی حمایت کرتا ہے اور باقاعدگی سے فیلڈ اسپتال، تلاش و بچاؤ ٹیمیں، امدادی سامان اور طبی امداد فراہم کرتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’حالیہ دنوں میں ہندوستان نے سری لنکا، فلپائن اور جمیکا میں آنے والے سمندری طوفانوں کے ساتھ ساتھ میانمار، وینزویلا اور افغانستان میں آنے والے زلزلوں کے بعد بحالی اور امدادی کاموں میں تعاون کیا ہے۔‘‘

دہشت گردی کے معاملے پر جے شنکر نے زیرو ٹالرنس کی پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کو سخت نتائج بھگتنے ہوں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کو مالی امداد پہنچانے والے ذرائع پر روک لگانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان، ملیشیا کے ساتھ مل کر آسیان دفاعی وزراء کی میٹنگ پلس (اے ڈی ایم ایم+) کے انسدادِ دہشت گردی ماہرین کے ورکنگ گروپ کی مشترکہ صدارت کر رہا ہے اور دہشت گردی سے نمٹنے کے بہترین طریقہ کار کا ایک مجموعہ تیار کر رہا ہے۔


بحری سیکورٹی پر ایس جے شنکر نے کہا کہ ہندوستان کا انفارمیشن فیوژن سنٹر، انڈو-پیسفک میری ٹائم ڈومین اویئرنس اقدام اور شمالی بحیرہ عرب سے لے کر مغربی بحرالکاہل تک ہندوستانی بحریہ کی تعیناتی بحری قزاقی، انسانی و منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے اور بحری تجارت کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے جوہری عدم پھیلاؤ اور تخفیف اسلحہ کو کمزور کرنے والی سرگرمیوں کے تئیں محتاط رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے لیے ذمہ دارانہ اور انسان دوست نقطہ نظر اپنانے اور سائبر جرائم سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون بڑھانے کی بھی وکالت کی۔

بحیرہ جنوبی چین کے مسئلے پر انہوں نے کہا کہ ہندوستان اقوام متحدہ کے سمندری قوانین کے معاہدے (یو این سی ایل او ایس-1982) کے عین مطابق ایک مؤثر، بااعنی اور قانونی طور پر پابند ضابطہ اخلاق کی حمایت کرتا ہے، جو تمام جائز صارفین کے حقوق کا احترام کرے۔ بحیرہ جنوبی چین دنیا کے مصروف ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے۔ اس خطے پر چین، فلپائن، ویتنام، ملیشیا، برونیئی اور تائیوان اپنے اپنے دعوے کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وقت فوقتاً بحری تصادم کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔