فرانس: اسلام اور مہاجرین مخالف پارٹی کے رہنماؤں کو قید کی سزا

انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے تین سرکردہ رہنماؤں پر الزام تھا کہ انہوں نے الپس کے پہاڑوں کے راستے ملک میں داخل ہونے والے پناہ گزینوں کو زبردستی روکنے کے لیے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا۔

فرانس: اسلام اور مہاجرین مخالف پارٹی کے رہنماؤں کو سزائے قید
فرانس: اسلام اور مہاجرین مخالف پارٹی کے رہنماؤں کو سزائے قید

ڈی. ڈبلیو

اس مقدمے میں فرانس کی ایک عدالت نے اسلام اور مہاجرین مخالف جماعت 'جنریشن آیڈینٹٹی‘ کے سربراہ اور دو دیگر رہنماؤں کو چھ چھ ماہ قید کی سزائیں سنائی۔ نیوز ایجنسی اے پی کے مطابق جماعت کے صدر کلیموں گانڈیلین، اُن کے ترجمان ایسپینو اور ایک تیسرے شخص ڈامی لیفیرے نے گزشتہ برس ایک مہم شروع کی تھی، جس کا مقصد الپس کے داخلی پہاڑی راستے پر جا کر مہاجرین کے داخلے کو زبردستی روکنا تھا۔

اپنے فیصلے میں عدالت نے انہیں بعض 'شہری حقوق‘ سے بھی محروم کر دیا جس کے تحت وہ آئندہ پانچ برسوں تک ووٹ دینے کے اہل بھی نہیں ہوں گے۔ استغاثہ کے مطالبے پر اس جماعت پر 75 ہزار یورو کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے۔

فرانس میں زیادہ تر مہاجرین اٹلی سے داخل ہوتے ہیں اور یہ راستہ الپس کے پہاڑوں سے گزرتا ہے۔ یہ افراد ایک چھوٹا طیارہ لے کر وہاں پہنچے تھے۔ عدالت کے مطابق ان افراد کو اس وجہ سے یہ سزائیں سنائی گئی ہیں کیوں کہ ان کے اقدامات سے عوامی اور حکومتی ذمے داریوں میں تصادم پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے داخلی راستوں کی حفاظت قومی سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری ہے نہ کہ عام شہریوں کی۔ اسی طرح قانون پر عملدرآمد کروانے کے لیے پولیس جیسے ادارے موجود ہیں۔

اس عدالتی فیصلے کو یورپ کی نسل پرستانہ تحریک کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ تحریک یورپ میں اسلام اور مہاجرین مخالف ایجنڈے کو فروغ دینے کے لیے مشہور ہے اور حالیہ چند برسوں میں اس کی جڑیں یورپ بھر میں مضبوط ہوئی ہیں۔

فرانس میں نسل پرستی کے خلاف کام کرنے والے کارکن اور فرانسسی حکومت ایک عرصے سے اس جماعت پر مکمل پابندی عائد کرنے کے حق میں ہیں۔