مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان ’ڈی جی سی اے‘ نے جاری کی ایڈوائزری، 11 ممالک میں پرواز کرنے سے کریں گریز
ڈی جی سی اے کے مطابق زیادہ خطرہ والے ممالک میں ایران، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، بحرین، عمان، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت شامل ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ مسلسل شدت اختیار کرتی جا رہی ہے، دونوں جانب سے تابڑ توڑ حملے اب بھی جاری ہیں۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازعہ کے پیشِ نظر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (ڈی جی سی اے) نے جمعرات کو ایئر لائن کمپنیوں کو فضائی حدود سے بچنے کا مشورہ دیا ہے۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس کے علاقوں میں موجود خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ڈی جی سی اے کا کہنا ہے کہ یہ ایڈوائزری 28 مارچ تک نافذ رہے گی۔
ایڈوائزری کے مطابق ایران پر حال ہی میں ہونے والے امریکی اور اسرائیلی مشترکہ فوجی حملوں نے سول ایوی ایشن کے لیے ایک ’ہائی رِسک‘ ماحول پیدا کر دیا ہے، اور تہران کی جانب سے ممکنہ جوابی کارروائی کی وجہ سے علاقائی فضائی حدود کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ برقرار ہے۔ ایسے میں کئی طرح کے خطرات کی وارننگ بھی دی گئی ہے، جس میں امریکی اور اسرائیلی تنصیبات پر ممکنہ حملے بھی شامل ہیں جو نہ صرف ایرانی فضائی حدود کو بلکہ کئی دیگر پڑوسی ممالک کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ ڈی جی سی اے نے خلیج میں جاری فوجی کارروائیوں سے بڑھتے ہوئے خطرات کی جانب توجہ دلائی اور آپریشنل غلطیوں کے امکانات کی بھی نشاندہی کی ہے۔
ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ہائی رسک والے خطے میں کئی فلائٹ انفارمیشن ریجنس (ایف آئی آر) کے تحت تمام اونچائی اور فلائٹ لیول شامل ہیں۔ زیادہ خطرہ والے ممالک میں ایران، اسرائیل، لبنان، سعودی عرب، بحرین، عمان، عراق، اردن، متحدہ عرب امارات، قطر اور کویت شامل ہیں۔ بین الاقوامی حفاظتی معیارات کے مطابق ڈی جی سی اے نے تمام ہندوستانی ہوا بازی کمپنیوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ چند مخصوص حالات کے علاوہ متاثرہ فضائی حدود کے اندر تمام بلندیوں اور فلائٹ لیول پر پرواز کرنے سے گریز کریں۔
ڈی جی سی اے کی جانب سے خاص طور پر یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ سعودی عرب اور عمان کی فضائی حدود کے اندر ایف ایل 320 سے نیچے پرواز نہ کریں۔ ایڈوائزری میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جن مقامات پر پرواز کی اجازت دی گئی ہے وہاں ایئر لائن کمپنیوں کو نگرانی کے مضبوط نظام نافذ کرنے چاہئیں۔ ساتھ ہی ڈی جی سی اے نے اپنی ایڈوائزری میں متاثرہ علاقے کے ہوائی اڈوں کے لیے پروازوں کے ہنگامی منصوبے کی ضرورت پر بھی زور دیا، خاص طور پر ان مقامات پر جہاں بین الاقوامی کمپنیاں اب بھی پروازیں چلا رہی ہیں۔ متاثرہ ممالک اور وہاں کے حکام کی جانب سے جاری کردہ تمام اپ ڈیٹڈ ایروناٹیکل انفارمیشن پبلیکیشنز (اے آئی پی ایس) اور ’نوٹم‘ کی باریک بینی سے نگرانی کرنی ہوگی۔
قابل ذکر ہے کہ ان 11 متاثرہ فضائی حدود کے ساتھ ساتھ ایڈوائزری میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ شام اور یمن کی فضائی حدود کے حوالے سے جاری کردہ پچھلی ایڈوائزری بھی مکمل طور پر نافذ رہیں گی۔ یہ ایڈوائزری آئندہ ہفتے 28 مارچ تک موثر رہے گی، جس کے بعد اسے جاری رکھنے یا ختم کرنے کے حوالے سے دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔