عالمی سطح پر جاری جنگ کے درمیان ہندوستان سمیت 20 ممالک نے اپنے دفاعی اخراجات میں کیا اضافہ
سب سے زیادہ خرچ امریکہ، چین اور روس نے کیا۔ ان تینوں کا مجموعی خرچ 1480 ارب ڈالر رہا، جو دنیا کے مجموعی خرچ کا 51 فیصد ہے۔ حالانکہ امریکہ کا خرچ 7.5 فیصد گھٹ کر 954 ارب ڈالر ہو گیا۔

اسٹاک ہوم انٹرنیشنل نے فوجی اخراجات سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے، جس کے مطابق دنیا کے 20 ممالک نے اس سال اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ ان ممالک میں ہندوستان کے علاوہ پاکستان، چین، جاپان اور جرمنی نمایاں ہیں۔ اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس آئی پی آر آئی) کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں دنیا کا مجموعی فوجی خرچ 2,887 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2024 کے مقابلے 2.9 فیصد زیادہ ہے۔ یہ مسلسل 11واں سال ہے جب دفاعی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔ اب یہ خرچ عالمی مجموعی گھریلو پیداوار کا 2.5 فیصد ہو چکا ہے، جو 2009 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔
سب سے زیادہ خرچ امریکہ، چین اور روس نے کیا۔ ان تینوں کا مجموعی خرچ 1,480 ارب ڈالر رہا، جو دنیا کے مجموعی خرچ کا 51 فیصد ہے۔ تاہم امریکہ کا خرچ 7.5 فیصد کم ہو کر 954 ارب ڈالر رہ گیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ رہی کہ 2025 میں یوکرین کے لیے نئی فوجی امداد کی منظوری نہیں دی گئی۔ اس کے باوجود امریکہ نے اپنی فوجی طاقت برقرار رکھنے کے لیے جوہری اور روایتی اسلحوں پر سرمایہ کاری جاری رکھی ہے۔ اندازہ ہے کہ 2026 میں اس کا دفاعی بجٹ ایک کھرب ڈالر سے تجاوز کر سکتا ہے اور 2027 میں 1.5 کھرب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔
یورپ کا مجموعی خرچ 14 فیصد اضافے کے ساتھ 864 ارب ڈالر ہو گیا۔ روس-یوکرین جنگ کے باعث دونوں ممالک نے اپنے اخراجات میں اضافہ کیا ہے۔ روس نے 190 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 7.5 فیصد) جبکہ یوکرین نے 84.1 ارب ڈالر (جی ڈی پی کا 40 فیصد) خرچ کیے۔ یورپ کے ناٹو ممالک نے مل کر 559 ارب ڈالر خرچ کیے۔ جرمنی کا خرچ 24 فیصد بڑھ کر 114 ارب ڈالر ہو گیا اور پہلی بار 1990 کے بعد اس کا دفاعی خرچ جی ڈی پی کے 2 فیصد سے زیادہ ہو گیا۔ اسپین کا خرچ 50 فیصد بڑھ کر 40.2 ارب ڈالر ہو گیا۔
قابل ذکر ہے کہ ایشیا میں دفاعی اخراجات تیزی سے بڑھے ہیں۔ یہاں مجموعی خرچ 681 ارب ڈالر رہا، جو 8.1 فیصد زیادہ ہے۔ چین نے 336 ارب ڈالر خرچ کیے اور یہ مسلسل 31واں سال ہے جب اس کے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ جاپان نے 9.7 فیصد اضافہ کر کے 62.2 ارب ڈالر خرچ کیے، جو 1958 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ تائیوان نے 14 فیصد اضافہ کر کے 18.2 ارب ڈالر خرچ کیا۔ ہندوستان نے 8.9 فیصد اضافہ کر کے 92.1 ارب ڈالر خرچ کیے اور دنیا میں پانچویں مقام پر رہا۔ پاکستان کا خرچ 11 فیصد بڑھ کر 11.9 ارب ڈالر ہو گیا۔ ہندوستان نے پاکستان کے مقابلے میں تقریباً 80 ارب ڈالر زیادہ خرچ کیے۔
مشرق وسطیٰ میں مجموعی خرچ تقریباً مستحکم رہا اور 218 ارب ڈالر تک پہنچا۔ اسرائیل کا خرچ 4.9 فیصد کم ہو کر 48.3 ارب ڈالر ہو گیا، کیونکہ 2025 میں غزہ جنگ کے دوران حملوں میں کمی آئی تھی۔ ترکیہ کا خرچ 7.2 فیصد بڑھ کر 30 ارب ڈالر ہو گیا۔ ایران کا خرچ 5.6 فیصد کم ہو کر 7.4 ارب ڈالر رہ گیا، جس کی وجہ اس کی کمزور معیشت اور 42 فیصد مہنگائی ہے۔ افریقہ میں بھی دفاعی اخراجات میں اضافہ دیکھا گیا۔ یہاں مجموعی خرچ 58.2 ارب ڈالر ہو گیا، جو 8.5 فیصد زیادہ ہے۔ نائجیریا کا خرچ 55 فیصد بڑھ کر 2.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔