267 ہندوستانی شہری روسی فوج میں ہوئے تھے شامل، 51 جاں بحق اور 77 لاپتہ، حکومت نے سپریم کورٹ میں بتایا

سپریم کورٹ ’دویا بنام یونین آف انڈیا‘ معاملے کی سماعت کر رہا تھا۔ اسی دوران وزارت خارجہ نے روسی فوج میں شامل ہوئے ہندوستانی شہریوں کی مکمل تفصیلات فراہم کیں۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i

مرکزی حکومت نے بدھ (14 اکتوبر) کو سپریم کورٹ میں بتایا کہ روس-یوکرین جنگ میں تقریباً 267 ہندوستانی شامل ہوئے تھے، جن میں 51 کی موت ہو چکی ہے اور 77 اب بھی لاپتہ ہیں۔ ان میں سے 7 کے لاپتہ ہونے کی تصدیق روسی افسران نے کی ہے۔ جبکہ 139 ہندوستانیوں کو حکومت ہند کے ذریعہ روسی فیڈریشن کے ساتھ کیے گئے مسلسل سفارتی تعاون کے تحت پہلے ہی فوجی خدمات سے آزاد کرا دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ ’دویا بنام یونین آف انڈیا‘ معاملے کی سماعت کر رہا تھا۔ اسی دوران وزارت خارجہ نے روسی فوج میں شامل ہوئے ہندوستانی شہریوں کی مکمل تفصیلات فراہم کیں۔ سی جے آئی سوریہ کانت کی صدارت والی بنچ نے وزارت خارجہ سے کہا کہ وہ متاثرہ ہندوستانیوں کے خاندانوں کو مدد اور معاوضہ پانے کے لیے مدعو کرتے ہوئے ایک پبلک نوٹس جاری کرنے پر غور کرے۔ سپریم کورٹ نے نوٹ کیا کہ وزارت خارجہ متاثرہ خاندانوں سے ذاتی طور پر رابطہ کر رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ افسران معاوضے کے دعووں میں مدد کریں گے۔ سپریم کورٹ نے روس سے معاوضہ پانے میں آ رہی دقتوں، ڈی این اے شناخت اور لاشوں کو واپس لانے میں ہو رہی تاخیر پر بھی غور کیا۔ وزارت خارجہ نے بتایا کہ ہندوستانی سفارت خانہ روسی افسران سے مسلسل فالو اَپ کر رہا ہے۔


سپریم کورٹ نے سماعت کے دوران سکندر سنگھ کے معاملے پر بھی غور کیا، جو روس میں 8 سال کی سزا کاٹ رہا ہے اور اس امید پر بھی کہ کیا وہ اپنی باقی سزا ہندوستان میں کاٹ سکتا ہے؟ دوسری جانب عرضی گزار نے ان ایجنٹوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں، جن پر ہندوستانی شہریوں کو روسی فوج میں بھرتی کرنے میں شامل ہونے کا الزام عائد ہوا ہے۔ اس سے قبل 7 اکتوبر کو وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے ہفتہ واری میڈیا بریفنگ میں اس کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم روسی فوج کے ساتھ باقی رہ جانے والے ہندوستانی شہریوں کے بارے میں اپڈیٹ کے لیے روسی افسران سے رابطہ کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے ہندوستانی شہریوں کو روسی فوج میں شامل ہونے کی کسی بھی پیشکش سے دور رہنے کی اپیل کی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔