23 ہزار افراد کی ملازمت خطرے میں، مائیکروسافٹ اور میٹا کے منصوبہ نے ملازمین کے اڑائے ہوش

ٹیک سیکٹر میں ایک بار پھر چھنٹنی کی سرگوشی ہو رہی ہے۔ میٹا پلیٹ فارمز اور مائیکروسافٹ نے اپنے خرچ کو کنٹرول کرنے اور اے آئی پر بڑی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے بڑے فیصلے لینے شروع کر دیے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>مائیکروسافٹ اور میٹا، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

دنیا کی 2 بڑی ٹیک کمپنیاں، ’میٹا‘ اور ’مائیکروسافٹ‘ ایک بڑی تبدیلی کی تیاری میں ہیں، جس کا اثر ہزاروں ملازمین پر پڑ سکتا ہے۔ آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی، یعنی مصنوعی ذہانت) پر بڑھتے خرچ اور آپریشنز کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے دونوں کمپنیاں اخراجات کم کرنے کی سمت میں قدم اٹھا رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ان فیصلوں سے تقریباً 23,000 ملازمتیں متاثر ہو سکتی ہیں۔ جہاں ایک طرف میٹا بڑے پیمانے پر چھنٹنی کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، وہیں مائیکروسافٹ اپنے ملازمین کو رضاکارانہ ’بائی آؤٹ‘ کی پیشکش کر رہی ہے۔

یہ خبر یقیناً مائیکروسافٹ اور میٹا میں کام کرنے والے ملازمین کے ہوش اڑانے والی ہے۔ ٹیک سیکٹر میں ایک بار پھر چھنٹنی کی سرگوشی فکر کا باعث ہے۔ میٹا پلیٹ فارمز اور مائیکروسافٹ نے اپنے اخراجات کو قابو میں رکھنے اور اے آئی پر بڑی سرمایہ کاری کو یقینی بنانے کے لیے بڑے فیصلے لینے شروع کر دیے ہیں۔ میٹا نے اپنے ملازمین کو بھیجے گئے ایک انٹرنل میمو میں بتایا ہے کہ کمپنی اپنی تقریباً 10 فیصد ورک فورس، یعنی تقریباً 8,000 ملازمین کی چھنٹنی کرے گی۔ یہ عمل 20 مئی سے شروع ہوگا۔ اس کے علاوہ کمپنی تقریباً 6,000 خالی عہدوں کو بھی پُر نہیں کرے گی، جس سے مجموعی اثر مزید بڑھ سکتا ہے۔ میٹا کا کہنا ہے کہ یہ قدم کمپنی کو زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بنانے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔


دوسری طرف مائیکروسافٹ نے اپنے امریکی ملازمین کے لیے بڑے پیمانے پر رضاکارانہ ’بائی آؤٹ‘ پروگرام شروع کیا ہے۔ رضاکارانہ بائی آؤٹ کو ’والنٹری ایگزٹ پیکیج‘ بھی کہتے ہیں، جس کا مطلب ہے کسی کمپنی کا اپنے ملازمین کو رضامندی سے ملازمت چھوڑنے کے بدلے ایک پُرکشش مالیاتی پیکیج (سیورینس پیکیج) فراہم کرنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ میں مائیکروسافٹ کے تقریباً 1.25 لاکھ ملازمین میں سے قریب 7 فیصد، یعنی 8,750 افراد اس پیشکش کے اہل ہو سکتے ہیں۔ یہ مائیکروسافٹ کی تاریخ میں اس نوعیت کا سب سے بڑا بائی آؤٹ اقدام مانا جا رہا ہے۔

درحقیقت دونوں کمپنیاں آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے بڑھتے دباؤ کے درمیان بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہیں۔ مائیکروسافٹ دنیا بھر میں نئے ڈاٹا سینٹر قائم کر رہی ہے اور جاپان و آسٹریلیا میں بڑے اے آئی سرمایہ کاری کے اعلانات کر چکی ہے۔ اسی طرح میٹا بھی رواں سال ریکارڈ کیپیٹل اخراجات کی منصوبہ بندی کر رہی ہے اور اے آئی شراکت داروں کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کر چکی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیک کمپنیاں اب کم خرچ میں زیادہ کارکردگی حاصل کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ ایسے میں آنے والے وقت میں ٹیک سیکٹر میں مزید چھنٹنی دیکھنے کو مل سکتی ہے۔