زوبین گرگ موت معاملہ: عدالت کا منیجر سے جڑے کھاتوں کو منجمد کرنے کا حکم
زوبین گرگ کی موت کے معاملے میں عدالت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے منیجر سے جڑے افراد کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنے کا حکم دیا ہے، جبکہ تفتیش اور عدالتی کارروائی مزید حساس مرحلے میں داخل ہو گئی ہے

آسام کے معروف گلوکار زوبین گرگ کی موت سے جڑے معاملے میں بدھ کے روز ایک اہم عدالتی پیش رفت سامنے آئی ہے، جس نے اس کیس کو ایک بار پھر سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے۔ گواہاٹی کی فاسٹ ٹریک عدالت نے اس معاملے میں ملوث منیجر سدھارتھ شرما سے جڑے کچھ افراد کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔ عدالت کے اس فیصلے کو تفتیشی عمل میں ایک اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے، جس سے کیس کی سمت مزید واضح ہونے کی توقع ہے۔
عدالت نے اپنے حکم میں ایک تنظیم “مہابیر ایکوا” کو بھی ضبط کرنے کی ہدایت دی ہے، جسے سدھارتھ شرما سے منسلک بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس تنظیم کے مالی لین دین اور اس کے ذرائع آمدنی کی بھی جانچ کی جا رہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا اس کا اس پورے معاملے سے کوئی براہ راست یا بالواسطہ تعلق ہے یا نہیں۔
یاد رہے کہ زوبین گرگ کا انتقال گزشتہ سال 19 ستمبر کو سنگاپور میں لازرس آئی لینڈ کے قریب تیراکی کے دوران ہوا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف ان کے مداحوں کو صدمے میں ڈال دیا تھا بلکہ اس کی وجوہات کو لے کر کئی سوالات بھی کھڑے ہو گئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس حادثے سے ایک دن بعد انہیں ایک پروگرام میں پرفارم کرنا تھا، جو این ای آئی ایف بینر کے تحت منعقد ہونا تھا۔
واقعے کے بعد آسام پولیس کی سی آئی ڈی نے ایک خصوصی تفتیشی ٹیم تشکیل دی، جس نے کئی مہینوں تک مختلف پہلوؤں سے جانچ کی۔ دسمبر میں داخل کی گئی چارج شیٹ میں سات افراد کو ملزم بنایا گیا، جن میں سدھارتھ شرما کا نام بھی شامل ہے۔ ان میں سے چار ملزمان کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا، جس نے اس کیس کی سنگینی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
اس معاملے پر آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے بھی سخت موقف اختیار کیا تھا۔ انہوں نے اسمبلی میں بحث کے دوران اس واقعے کو ’سیدھی اور صاف قتل‘ قرار دیا، جس سے یہ واضح ہو گیا کہ ریاستی حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور مکمل سچائی سامنے لانے کے لیے پرعزم ہے۔
دوسری جانب سنگاپور پولیس کی جانب سے کی گئی متوازی تفتیش میں کسی بھی قسم کی سازش یا قتل کے شواہد نہیں ملنے کی بات سامنے آئی تھی۔ اس کے باوجود آسام حکومت نے واضح کیا ہے کہ بیرونی ایجنسیوں کی رپورٹ ریاست میں جاری تفتیش اور عدالتی کارروائی کو متاثر نہیں کرے گی۔
اب اس کیس کی آئندہ سماعت اور خاص طور پر ملزمان کی ضمانت سے متعلق فیصلے پر سب کی نظریں ٹکی ہوئی ہیں۔ عدالت کے حالیہ احکامات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ مالی پہلوؤں کی گہرائی سے جانچ جاری ہے، جو ممکنہ طور پر اس پیچیدہ معاملے کی تہہ تک پہنچنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔