زوجیلا ٹنل کا ’بریک تھرو‘ ہوا کامیاب، ایشیا کی سب سے لمبی سرنگ میں برف باری بھی نہیں روک پائے گی گاڑیوں کی رفتار

جب انجینئر اور مزدور پہاڑ کے دونوں سروں سے ایک ساتھ کھدائی شروع کرتے ہیں اور درمیان میں آ کر دونوں راستے آپس میں مل جاتے ہیں تو اسے ’بریک تھرو‘ کہا جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>زوجیلا ٹنل، تصویر (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ہندوستان کے لیے قومی سلامتی اور اسٹریٹجک انفراسٹکرچر کے لحاظ سے آج کا دن کافی اہمیت کا حامل رہا۔ دنیا میں سب سے زیادہ اونچائی پر بن رہی جدید ٹکنالوجی کی نایاب مثال ’زوجیلا سرنگ‘  کو منگل (9 جون) کو اپنا آخری بریک تھرو حاصل ہو گیا۔ اس تاریخی بلاسٹ اور آخری بریک تھرو کے موقع پر مرکزی وزیر برائے روڈ ٹرانسپورٹ اور ہائی ویز نتن گڈکری، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور گورنر منوج سنہا اور لداخ کے گورنر ونے کمار سکسینہ موجود رہے۔

نیشنل ہائی ویز اینڈ انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ (این ایچ آئی ڈی سی ایل) کے افسران کے مطابق یہ بڑی کامیابی طے وقت سے 6 ماہ قبل ہی حاصل کر لی گئی ہے۔ سرنگ کی تعمیر میں ’بریک تھرو‘ کا مطلب پہاڑ کے اندر آر پار راستہ کھل جانا ہے۔ جب انجینئر اور مزدور پہاڑ کے دونوں سروں سے ایک ساتھ کھدائی شروع کرتے ہیں اور درمیان میں آ کر دونوں راستے آپس میں مل جاتے ہیں تو اسے ’بریک تھرو‘ کہا جاتا ہے۔


’بریک تھرو‘ کسی بھی ٹنل پروجیکٹ کا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے، کیونکہ اس کے بعد سرنگ کی کھدائی مکمل ہو جاتی ہے۔ اب زوجیلا سرنگ میں بریک تھرو ہونے سے سرنگ کے اندر سڑک بنانے، بجلی کی لائنیں بچھانے، سی سی ٹی وی کیمرے اور ایڈوانس وینٹیلییشن سسٹم لگانے جیسے آخری مرحلے کے کام تیزی سے شروع ہو سکیں گے۔ سمندر کی سطح سے تقریباً 11578 فیٹ کی اونچائی پر بن رہی یہ 13.153 کلومیٹر لمبی سرنگ دنیا کی سب سے لمبی سنگل-ٹیوب بائی ڈائریکشنل (دونوں طرف سے گاڑیوں کی آمد و رفت والی) سرنگ ہے۔ یہ سرنگ سرینگر-لیہ نیشنل ہائی وے پر واقع ہے۔

سرینگر-لیہ نیشنل ہائی وے بھاری برف باری اور برفانی تودے گرنے کی وجہ سے سردیوں کے 3 مہینوں کے لیے پوری طرح بند ہو جاتی ہے، جس سے لداخ کا رابطہ ملک سے منقطع ہو جاتا ہے۔ لیکن اس آل-ویدر سرنگ کے مکمل طور پر شروع ہو جانے کے بعد کشمیر گھاٹی اور لداخ کے درمیان سال بھر بلا رکاوٹ رابطہ برقرار رہ سکے گا۔ اس کے بننے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ زوجیلا درے کو پار کرنے میں پہلے جہاں ایک سے ڈیڑھ گھنٹے کا وقت لگتا تھا، وہ سفر اب محض 15 منٹ کا رہ جائے گا۔


زوجیلا سرنگ حساس سرحدی علاقوں میں ہندوستانی مسلح افواج کے لیے رسد، فوجی دستوں اور ہتھیاروں کی ترسیل کو انتہائی محفوظ اور تیز رفتار بنا دے گی۔ اس کے ساتھ ہی عام شہریوں کے لیے بھی یہ کسی نعمت سے کم نہیں ہے۔ اس سے سردیوں میں جو ملک کے دیگر حصوں سے رابطہ منقطع ہو جاتا تھا اس کا خاتمہ ہوگا اور خطے میں تجارت، سیاحت اور ضروری خدمات کو فروغ ملے گا۔ مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ اس سرنگ کے بننے سے ان کا سالوں پرانا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے جا رہا ہے۔ لداخ کے رہنے والے بشارت احمد نے کہا کہ ’’ہم اس ٹنل کا بے صبری سے انتظار کر رہے تھے اور اس پروجیکٹ کے لیے حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہم نہ صرف سفر کر سکیں گے بلکہ ٹنل کے ذریعہ اشیاء کا لین دین بھی کر پائیں گے۔ اس سے ہمارے کاروبار اور تجارت کو فروغ ملے گا۔‘‘

مغربی ہمالیہ کے اس حصے میں سرنگ بنانا انتہائی مشکل کام تھا۔ اسے بنانے کے دوران انجینئروں کو منفی 20 ڈگری سیلسیس سے منفی 30 ڈگری سیلسیس تک ہڈی کپا دینے والے درجہ حرارت، برفانی تودے گرنے کے خطرے اور ہمالیہ کی کمزور اور بدلتی ہوئی چٹانی بناوٹ جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجودی میگھا انجینئرنگ اینڈ انفراسٹرکچر لمیٹڈ ایجنسی نے بغیر کسی حادثے کے اس کام کو مکمل کیا ہے۔ اس پروجیکٹ میں نیو آسٹریئن ٹنلنگ میتھڈ (این اے ٹی ایم) ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے، جو کمزور پہاڑوں میں مضبوطی اور حفاظت برقرار رکھنے میں انتہائی کارآمد رہی ہے۔ یہ مرکزی سرنگ مغربی پورٹل میں کشمیر کے بالٹال سے شروع ہو کر لداخ کے مینا مارگ پر ختم ہوتی ہے، جس کی چورائی 9.5 میٹر اور اونچائی 7.57 میٹر ہے۔


زوجیلا سرنگ کے اندر ہائی-ٹیک سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں، جس میں اسمارٹ ٹنل (ایس سی اے ڈی اے) سسٹم، سی سی ٹی وی کیمرے، ریڈیو کنٹرول اور ہوا کی آمد و رفت کے لیے ایڈوانس وینٹیلیشن سسٹم شامل ہیں۔ افسران کے مطابق ’بریک تھرو‘ کے بعد سول اور الیکٹریکل کام مکمل کر کے اس سرنگ کو جنوری-فروری 2028 تک عام لوگوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔

پروجیکٹ کا ایک مختصر تعارف

  • منصوبہ کی شروعات: یکم اکتوبر 2020

  • پروجیکٹ کی کل لمبائی (پہنچنے والے راستے سمیت): 30.894 کلومیٹر

  • مرکزی زوجیلا ٹنل کی لمبائی: 13.153 کلومیٹر

  • نلگرار ٹنل (ٹی1 اور ٹی2): بالترتیب: 457.35 میٹر اور 1953.63 میٹر

  • آخری بریک تھرو کی تاریخ: 9 جون 2026

  • سرنگ کا باقاعدہ آغاز: 2028

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔