بیرون ملک نوکری کے خواہشمند ہوشیار! ملیشیا لے جا کر تھما دیتے ہیں فرضی پاکستانی پاسپورٹ

پاکستانی پاسپورٹ پر ملیشیا میں ملازمت کا دباؤ بنانے اور متاثرہ نوجوان سے لاکھوں روپے کی فریب دہی کرنے کی شکایت کے بعد پولس نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لے کر جیل بھیج دیا ہے۔

دیوبند کے محلہ پٹھان پورہ کا باشندہ مہتاب پولس کو تحریر دینے جاتے ہوئے، فوٹو ایم افسر
دیوبند کے محلہ پٹھان پورہ کا باشندہ مہتاب پولس کو تحریر دینے جاتے ہوئے، فوٹو ایم افسر
user

عارف عثمانی

دیوبند: مغربی اتر پردیش کے نوجوانوں کو بہترین ملازمت کا لالچ دے کر بیرون ملک بھیجنے اور وہاں ان کے ساتھ استحصال کرنے کے کئی معاملات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ اس مرتبہ سہارنپور ضلع کے دیوبند قصبہ کے نوجوان کے ساتھ دھوکہ دہی کرنے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے۔ نوجوانوں کو بیرون ملک بھیجنے کے لئے نہ صرف ان کی شناخت تبدیل کی جا رہی ہے بلکہ ان کی شہریت بھی تبدیل کر کے فرضی پاسپورٹ اور ویزے تھمائے جا رہے ہیں۔ اس معاملہ کا انکشاف اس وقت ہوا جب مقامی نوجوان مہتاب قریشی نے ملیشیا سے آکر دو ایجنٹوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا، پولس نے کارروائی کرتے ہوئے دونوں کو گرفتار کر لیا ہے۔

پاکستانی پاسپورٹ پر ملیشیا میں ملازمت کا دباؤ بنانے اور متاثرہ نوجوان سے لاکھوں روپے کی فریب دہی کرنے کی شکایت کے بعد پولس نے 2 نوجوانوں کو حراست میں لے کر جیل بھیج دیا۔ ملزمان نوجوانوں سے خفیہ محکمہ کے افسران نے کئی گھنٹوں پوچھ گچھ کی۔

تفصیلات کے مطابق دیوبند کے محلہ پٹھان پورہ کے باشندے مہتاب نے 2 روز قبل کوتوالی میں ایک تحریر دیتے ہوئے کہا کہ دیوبند کے ہی محلہ ٹانکان کے باشندے شارق اور اس کے ساتھی سلمان نے اس کو ملیشیا میں ملازمت دلانے کے بہانے لاکھوں روپے لیکر اسے بیرون ملک بھیجا تھا۔ مہتاب نے بتایا کہ 28 نومبر کو وہ جیسے ہی ملیشیائی شہر کوالالمپور کے ایئرپورٹ پر پہنچا تو وہاں سلمان نام کے نوجوان نے اسے پاسپورٹ اور ویزا، پاسپورٹ پاکستانی شہر لاہور کے پتے پر بنا ہوا تھا۔ اسے بتایا گیا کہ وہ ملیشیا میں پاکستانی شہری بن کر رہے گا اور اس کا نام عزیز شیخ رہے گا، اس سے پتہ اور نام یاد کرنے کے لئے کہا گیا۔

مہتاب فرضی شناخت دئے جانے سے حیران تھا لیکن اس نے سمجھداری سے کام لیا اور کچھ دن وہاں رہنے کے بعد اپنے ایک رشتہ دار کو فون کر کے ہندوستان واپسی کا ٹکٹ بنوا لیا۔ مہتاب جس پاسپورٹ پر ملیشیا گیا تھا اسی سے واپس ہندوستان آ گیا۔ وہ پیر کے روز اپنے گھر پہنچا اور یہاں آنے کے بعد دونوں ایجنٹوں سلمان اور شارق کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی۔

مہتاب نے بتایا کہ ’’ملیشیا میں اسی طرح تقریباً 30 نوجوان پھنسے ہوئے ہیں جو ہندوستان لوٹنا چاہتے ہیں لیکن لوٹ نہیں پا رہے ہیں۔ ان کے گھر والے اتنے غریب ہیں کہ ان کی واپسی کا ٹکٹ بھی نہیں بنوا سکتے۔ کئی نوجوانوں کو تو وہاں پر غلام بنا کر رکھا گیا ہے، جتنی تنخواہ دینے کا وعدہ کیا گیا اس سے کہیں کم تنخواہ دی جا رہی ہے۔‘‘

پولس نے شارق اور سلمان کو حراست میں لے کر سخت پوچھ گچھ شروع کر دی ہے۔ دونوں سے خفیہ محکمہ کے افسران کی ٹیم نے بھی گھنٹوں پوچھ گچھ کی۔ سرکل آفیسر (سی او) سدھارتھ سنگھ نے بتایا کہ دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرکے جیل بھیجنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

گرفتار شدہ دونوں ملزمان اس سے قبل بھی دیوبند کے کئی نوجوانوں کو ملیشیا میں ملازمت کے لئے بھیج چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملزمان کے ذریعہ بھیجے گئے تمام نوجوانوں کی تفصیلات معلوم کرائی جار ہی ہیں۔

خفیہ ایجنسیوں کو پوچھ تاچھ کے دوران جو تفصیلات معلوم ہوئی ہیں ان کی بنیاد پر پولس نے رپورٹ تیار کرکے امور خارجہ کی وزارت کو تفصیلات بھیجنے کی بھی تیاری کرلی ہے۔ اس سلسلہ میں سی او سدھارتھ سنگھ نے بتایا کہ جن نوجوانوں کو ملازمت کے لئے ملیشیا بھیجا جاچکا ہے ان کی نشاندہی کرکے خفیہ جانچ کرائی جارہی ہے۔

مہتاب کا کہنا ہے کہ مغربی یوپی میں اس گروہ نے پورا جال بچھایا ہوا ہے۔ بے روزگار نوجوانوں کو پھنساکر بیرون ملک لے جایا جا رہا ہے اور وہاں جا کر نوجوان پھنس رہے ہیں لیکن مجبوری میں انہیں وہاں رہنا پڑ رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے خاندان میں پانچ بھائی بہن ہیں اور گھر کا دودھ فروخت کرنے کا اچھا کروبار ہے۔ اس نے ملیشیا جانے کے لئے قرض لیا تھا۔ وہ آٹھویں پاس ہے اسے یہاں بہتر نوکری نہیں مل سکی اس لئے وہ ملیشیا گیا تھا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔