یوگی حکومت نے او بی سی کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کی، اپریل میں نوٹیفکیشن اور مئی میں انتخاب کا منصوبہ
عدالت نے کمیشن کو رپورٹ تیار کرنے کے لیے 31 مارچ تک کی مدت طے کی تھی، حالانکہ تشکیل کمیشن نے طے مدت سے تقریباً 22 دن پہلے ہی اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی۔

اتر پردیش میں میونسپل کارپوریشن الیکشن کرائے جانے کی سمت میں ایک اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ریاست کی یوگی حکومت نے میونسپل کارپوریشن الیکشن میں پسماندہ ذاتوں کے لیے ریزرویشن طے کرنے کے مقصد سے تشکیل یوپی ریاستی خود مختار پسماندہ طبقات کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں داخل کر دی ہے۔ اب عدالت اس معاملے پر سماعت کر جو فیصلہ سنائے گا، اس کی بنیاد پر آگے کی کارروائی ہوگی۔ اس درمیان ذرائع کے حوالے سے خبر سامنے آ رہی ہے کہ عدالت کی ہدایات کے مطابق ہی بلدیاتی انتخاب میں او بی سی ریزرویشن کا معاملہ طے پائے گا۔
واضح رہے کہ ریاستی حکومت کے ذریعہ بلدیاتی انتخاب میں پسماندہ طبقات کے لیے ریزرو سیٹوں کی جاری فہرست پر تنازعہ ہونے کے بعد معاملہ سپریم کورٹ پہنچ گیا تھا۔ عدالت نے ریاستی حکومت کو پسماندہ طبقات کمیشن کی تشکیل کر کے بلدیاتی انتخاب میں پسماندہ افراد کو دیئے گئے ریزرویشن کا جائزہ لینے کی ہدایت دی تھی۔ عدالت نے کمیشن کو 31 مارچ تک رپورٹ تیار کرنے کی مدت طے کی تھی۔ حالانکہ تشکیل کمیشن نے طے مدت سے تقریباً 22 دن پہلے ہی اپنی رپورٹ حکومت کے حوالے کر دی۔
کمیشن کی رپورٹ کو ریاستی حکومت نے کابینہ سے منظوری دینے کے بعد سپریم کورٹ میں داخل کر دیا ہے۔ سٹی ڈیولپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے چیف سکریٹری امرت ابھیجات اور جسٹس ڈیپارٹمنٹ کے افسر پیر کی صبح سپریم کورٹ پہنچے اور وکیل کے ذریعہ کمیشن کی رپورٹ داخل کر عدالت سے اس معاملے پر سماعت کے لیے تاریخ دینے کی گزارش کی گئی۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران ریاستی حکومت کی طرف سے اپنی بات رکھی جائے گی اور مطالبہ کیا جائے گا کہ اس رپورٹ کی بنیاد پر بلدیاتی انتخاب میں او بی سی کی حصہ داری کا عمل طے کرتے ہوئے ان کے لیے سیٹیں ریزرو کرنے اور انتخاب کرانے کی اجازت دی جائے۔
او بی سی کمیشن کی رپورٹ میں دیئے گئے مشوروں کی بنیاد پر امید کی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ سے اجازت ملنے کے بعد میئر اور چیئرمین کی سیٹوں کے لیے قبل میں جاری ریزرویشن میں جزوی ترمیم کی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ریزرویشن کے لیے طے عمل میں ترمیم کرنے کے لیے ایکٹ میں بھی ترمیم کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
بہرحال، حکومت میں بلدیاتی انتخاب کی تیاری سے منسلک ایک اعلیٰ عہدیدار کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ کی اجازت ملنے کے بعد بھی تیاریوں کو پورا کرنے میں کم از کم 20 سے 25 دن لگیں گے۔ ایسے میں اپریل کے آخری ہفتہ میں بلدیاتی انتخاب کرانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کی تجویز بھیجنے کی تیاری ہے۔ اس طرح مئی میں انتخاب کرایا جا سکے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔