خواتین ریزرویشن بل: ’اپوزیشن نے حمایت نہیں کی تو یہ بل گر جائے گا‘، ووٹنگ سے پہلے ہی امت شاہ نے مان لی تھی شکست!

امت شاہ نے کہا تھا کہ ’’میں سمجھتا ہوں اگر یہ (اپوزیشن) ووٹ نہیں دیں گے تو خواتین ریزرویشن بل گر جائے گا، لیکن ملک کی خواتین دیکھ رہی ہیں کہ ان کے راستے کا روڑا کون ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امت شاہ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

خواتین ریزرویشن سے متعلق 131ویں آئین ترمیمی بل پر لوک سبھا میں ووٹنگ ہوئی اور دو تہائی ووٹ نہ ملنے کے سبب گر گیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے اس ووٹنگ سے قبل ہی بل منظور نہ ہونے کا اندیشہ ظاہر کر دیا تھا۔ دراصل انھوں نے ایک ایسا بیان دیا تھا، جو سرخیوں میں ہے۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ اگر یہ (اپوزیشن) ووٹ نہیں دیں گے تو خواتین ریزرویشن بل گر جائے گا، لیکن ملک کی خواتین دیکھ رہی ہیں کہ ان کے راستے کا روڑا کون ہے۔‘‘ اس بیان سے ظاہر ہے کہ امت شاہ نے ووٹنگ سے قبل ہی شکست مان لی تھی۔

لوک سبھا میں اپوزیشن کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ ’’شور شرابہ کر کے بچ جاؤ گے، لیکن ماؤں اور بہنوں کا جو غصہ آپ کے خلاف ہے، جب میدان میں جاؤ گے تب معلوم پڑے گا۔ بھاگتے ہوئے راستہ نہیں ملے گا۔ انتخاب میں جب جائیں گے تب معلوم پڑے گا، جب قوت نسواں حساب مانگیں گی۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’’یہاں کچھ اراکین نے گمراہی پھیلائی ہے کہ مسلم خواتین کو ریزرویشن ملنا چاہیے۔ میں یہاں آئین کی پالیسیوں کو واضح کرنا چاہتا ہوں۔ ہندوستانی آئین مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کو قبول نہیں کرتا ہے۔ انڈیا بلاک والے چاپلوسی کی سیاست کے سبب مسلم ریزرویشن کا مطالبہ کھڑا کرنا چاہتے ہیں اور یہ آئین کی بات کرتے ہیں۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ لوک سبھا میں خواتین ریزرویشن سے جڑے تینوں بلوں کو ووٹنگ کے لیے پیش کیے جانے کا فیصلہ لیا گیا۔ پہلے بل کے لیے جنگ ووٹنگ ہوئی تو مجموعی طور پر 528 ووٹ پڑے۔ بل کی حمایت میں 298 ووٹ ڈالے گئے، جبکہ 230 اراکین نے خلاف میں ووٹ ڈالے۔ بل کو منظوری کے لیے دو تہائی ووٹ کی ضرورت تھی، جو کہ 352 ہوتی ہے۔ مودی حکومت اس نمبر سے بہت پیچھے رہ گئی، جو کہ مودی حکومت کے لیے ایک شدید جھٹکا تصور کیا جا رہا ہے۔

پہلے راؤنڈ میں ہوئی اس ووٹنگ کے بعد بقیہ 2 بلوں کو پیش ہی نہیں کیا گیا۔ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ اس بل پر غور کرنے سے متعلق جب ووٹنگ ہوئی تو ’ہاں‘ میں 298 اور ’نہ‘ میں 230 ووٹ پڑے۔ یہ بل دو تہائی اکثریت سے پاس نہیں ہوا، اس لیے بل پر آگے کی کارروائی ممکن نہیں ہے۔ یہ بل غور کرنے کے لیے پیش کیے جانے کی سطح پر ہی گر گیا۔ اس کے بعد پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے دیگر 2 بلوں کو آگے نہ بڑھانے کا اعلان کیا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔