’کیا جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کا فیصلہ پاکستان کرے گا؟‘ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا مودی حکومت سے تلخ سوال
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے ’مناسب وقت‘ کسے مانتی ہے؟

جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے پیر کے روز مرکزی حکومت سے جموں و کشمیر کا مکمل ریاستی درجہ بحال کیے جانے میں لگنے والے وقت سے متعلق وضاحت طلب کی۔ اسمبلی میں ریاستی درجہ بحال کرنے کے مطالبہ والی تجویز پر بحث کے دوران انھوں نے سوال اٹھایا کہ ’جتنی جلدی ممکن ہو‘ ریاست کا درجہ بحال کرنے کی یقین دہانی کا آخر مطلب کیا ہے؟
عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو واضح کرنا چاہیے کہ وہ ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے ’مناسب وقت‘ کسے مانتی ہے؟ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ ’’میں ہر ممکن پلیٹ فارم پر مرکز سے پوچھتا ہوں کہ ہمیں بتائیے، ریاست کا درجہ مانگنے کا مناسب وقت کیا ہے؟‘‘ وزیر اعلیٰ نے ریاست کا درجہ بحال کرنے کو سیکورٹی حالات یا دہشت گردی سے جوڑنے کی کسی بھی کوشش پر سوال اٹھایا۔ انھوں نے کہا کہ ایسی شرط لگانے کا مطلب ہوگا کہ اس فیصلے پر نئی دہلی کا کنٹرول نہیں رہے گا۔ انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’اگر آپ کہہ رہے ہیں کہ جب تک دہشت گردی ختم نہیں ہوتی، تب تک ریاست کا درجہ نہیں ملے گا، تو آپ ظاہری طور پر یہ کہہ رہے ہیں کہ جموں و کشمیر کے ریاستی درجہ کا فیصلہ نئی دہلی میں نہیں، بلکہ اسلام آباد میں ہے۔‘‘
پاکستان کے کردار اور اُری و پلوامہ جیسے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے سوال کیا کہ کیا ریاستی درجہ بحال کرنے کو پاکستان کے ذریعہ تشدد ختم کرنے کی شرط سے جوڑ دیا گیا ہے؟ انھوں نے تلخ انداز میں کہا کہ ’’اگر آپ نے پہلے ہی طے کر لیا ہے کہ آپ کے وزیر اعظم اپنی مدت کار کے دوران ہمیں ریاست کا درجہ نہیں دیں گے، تو یہ بے حد افسوس کی بات ہے۔‘‘
تجویز میں موجود لفظوں کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ حکومت نے قصداً آرٹیکل 370، آرٹیکل 35اے اور خصوصی درجہ کا ذکر نہیں کیا ہے، تاکہ تجویز کا مرکز صرف ریاستی درجہ کی بحالی رہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ’’تجویز کو پڑھیے اور بتائیے کہ اس میں ہم 370، 35اے یا خصوصی درجہ پر ووٹنگ کا مطالبہ کہاں کر رہے ہیں۔‘‘ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ’’کچھ اراکین اسمبلی نے ایسی ترامیم پیش کی ہیں، جن کے ذریعہ ان ایشوز کو تجویز میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔ حالانکہ اس سے ایوان کی کارروائی کو رخنہ انداز کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی وہ کہتے ہیں کہ ’’میرے کچھ ساتھی اس جال میں پھنس گئے ہیں۔ جب وہ اس میں 370 اور 35اے جوڑتے ہیں، تو وہ انھیں ایک موقع فراہم کر دیتے ہیں۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
