اترپردیش: مدارس کے طلبا کی تعداد میں تنزلی، کیا ہے وجہ؟
ہندوستان میں سب سے زیادہ مسلمان اتر پردیش میں رہتے ہیں لیکن وہاں مدارس میں جانے والے بچوں کی تعداد گزشتہ تین سالوں میں کم ہو کر آدھی رہ گئی ہے، آخر کیوں؟۔

گزشتہ کچھ سالوں سے مدارس اسلامیہ سرخیوں میں ہیں اور ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے ان پر بار بار حملے کئے گئے۔ مدارس پر کبھی دہشت گردی کے الزامات لگے تو کبھی انہیں مرکزی دھارے میں شامل کرنے کی باتیں ہوئیں۔ عموماً کہا جاتا ہے کہ مذہبی تعلیم دینے والے یہ مدرسے باقی دنیا سے کٹے رہتے ہیں۔ لیکن اب تبدیلی وہاں بھی آرہی ہے اور مدارس میں زیر تعلیم طلبا بھی اسمارٹ فون چلاتے ہیں۔ وہاں کمپیوٹر آ گئے ہیں اور متعدد مدارس میں انگریزی بھی پڑھائی جا رہی ہے۔
لیکن گزشتہ تین سالوں میں اترپردیش کے مدارس میں زیر تعلیم طلبا کی تعداد گھٹ کر آدھی رہ گئی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریاست میں مدرسوں کے تئیں مسلمانوں کا رجحان کم ہو رہا ہے۔
اترپردیش میں دو طرح کے مدرسہ ہیں، ایک وہ جو اترپردیش حکومت کے مدرسہ بورڈ سے منظور شدہ ہیں، ان کے طلبا، اساتذہ اور نصاب پر حکومت کی نظر رہتی ہے۔ اس کے علاوہ امتحانات بھی معیار کے مطابق ہوتے ہیں۔ حکومت نے ان مدارس میں این سی ای آر ٹی کا نصاب نافذ کرا دیا ہے۔
دوسرے مدرسے وہ ہیں جن کا حکومت سے کوئی واسطہ نہیں ہے، وہ اپنی سطح پر مذہبی تعلیم فراہم کرتے ہیں۔ ان کے پاس کسی طرح کی منظوری نہیں ہوتی اور یہ اپنے مذہب کے مطابق چلتے ہیں۔ ایسے کتنے مدرسے ہیں اس کی کوئی مصدقہ معلومات نہیں ہے۔
منظور شدہ مدارس میں جدید موضوعات بھی پڑھائے جاتے ہیں لیکن گزشتہ چار برسوں کے اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو ان مدارس میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبا میں بھاری کمی واقع ہوئی ہے۔
سال 2016 میں 495636 طلبا کا اندراج ہوا جن میں سے 317050 طلبا امتحان میں بیٹھے۔ اس کے بعد سال 2017 میں اندراج کرانے والے طلبا کی تعداد کم ہو گئی ہے، کل 370752 طلبا نے فارم بھرے اور کل 289014 طلبا امتحان میں بیٹھے۔ اس کے بعد سال 2018 میں طلبا کی تعداد میں مزید تنزلی ہوئی اور کل 270755 طلبا نے اندراج کرایا اور کل 220804 طلبا امتحان میں بیٹھے۔
حالات یہ ہیں کہ 2019 میں ہونے والے امتحان میں کل 163365 طلبا نے اندراج کرایا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سال 2016 سے 2019 آتے آتے 332271 طلبا کم ہو گئے۔ طلبا کی گرتی تعداد کے پیش نظر بورڈ نے فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ میں چار دن کی توسیع کر دی ہے۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا مسلمان اب اپنے بچوں کو مدرسہ میں نہیں بھیجنا چاہتے؟ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں شعبہ الٰہیات (تھیولاجی) میں اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ریحان اختر بتاتے ہیں، ’’میں خود مدرسہ سے تعلیم یافہ ہوں۔ لیکن حکومت سے منظور شدہ مدرسوں سے تعلیم حاصل کرنے میں کافی دقتیں ہیں۔ وہاں حکومت کی پالیسی نافذ کرنے کی بات ہوتی ہے تو کبھی ’وندے ماترم ‘ اور ’اردو ہٹاؤ‘ کی باتیں کر کے تنازعہ کھڑا کیا جاتا ہے۔ ورنہ اس کے علاوہ جو دیگر مدرسے ہیں وہاں بچے بہت تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
لکھنؤ میں عیش باغ عیدگاہ کے امام مولانا فرنگی محلی بھی ایسی ہی بات بتاتے ہیں۔ ان کے مطابق ’’یہ مدرسے بورڈ سے منظور شدہ ہیں۔ ان میں بہت سے مدارس کی منظوری شرائط پوری نہ کر پانے کی وجہ سے ختم کر دی گئی۔ آج بھی جو پرائیویٹ مدرسے ہیں وہاں پر بچوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ ہم لوگ سبھی بچوں کو داخلہ نہیں دے پاتے کیونکہ اتنی سیٹیں نہیں ہوتی ہیں۔ ‘‘
بی جے پی حکومت نے مدرسوں کے لئے کئی اقدام لئے ہیں۔ افسران کے مطابق مدرسہ پورٹل شروع کر کے تمام معلومات آن لائن کر دی گئی ہیں۔ منظوری سے پہلے جانچ بھی کی جاتی ہے۔ پہلے ریاست میں 19125 مدرسے تھے لیکن جانچ کرنے کے بعد 13296 مدرسوں کی منظوری بچی رہ گئی یعنی 5829 مدرسے ختم ہو گئے۔
لکھنؤ کی رہائشی سیدہ خدیجہ ایک خاتون خانہ ہیں اور ان کے بچے شہر کے نامور اسکول میں زیر تعلیم ہیں، وہ کہتی ہیں، ’’مذہبی تعلیم ضروری ہے لیکن ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہے۔ بچوں کو آگے چل کر ملازمت بھی کرنی ہے۔ ہم نے گھر پر ہی مذہبی تعلیم کا انتظام کیا ہوا ہے۔‘‘
علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر رہے سلمان احمد بتاتے ہیں، ’’ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے کئی مدرسے بند ہو گئے ہیں، ہمارے محلے کے بچے بھی اب اسکول جانے لگےہیں۔‘‘
ایم اے (ہیومن رائٹس) کے طالب علم مجتبیٰ فراز کہتے ہیں ’’جب مدرسے کے بچوں کو ہدف بنایا جائے گا۔ ان کو مارا جائے گا، ان پر حملہ ہوگا تو ایسے ماحول کا اثر تو پڑے گا ہی۔ جب سماج کا ماحول ایسا ہے تو کون بچوں کو مدرسوں میں تعلیم حاصل کرنے کے لئے بھیجے گا۔‘‘
لیکن سچ یہ ہے کہ مدرسہ کی تعلیم سے ملازمت حاصل کرنا واقعی مشکل کام ہے، شاید ہی کسی سرکاری نوکری میں یہ اہلیت کام آتی ہو۔ ہر جگہ مدرسہ کی ڈگری قابل قبول ہی نہیں ہے، ایسے حالات میں وقت کے ساتھ چلنا ضروری ہو گیا ہے۔
کل ملا کر اب ہر مسلم خاندان کی یہ خواہش ہے کہ اس کے بچے ایسی جدید تعلیم حاصل کریں جو روزگار فراہم کرنے والی ہو۔ عام مسلم مذہبی تعلیم کے خلاف نہیں، لیکنموجودہ وقت میں اس کی ترجیحات بدل گئی ہیں۔ اب اسے سمجھ میں آ گیا ہے کہ نوکری جدید تعلیم سے ہی حاصل ہوگی۔
(ڈی ڈبلیو ہندی پر شائع فیصل فرید کی رپورٹ کا ترجمہ)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 13 Dec 2018, 6:05 PM
