’پولیس اہلکار ہی وصولی کرتے ہیں تو عام آدمی کہاں جائے؟‘ ضمانت خارج کرتے ہوئے عدالت نے کیا تلخ تبصرہ

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں حیرت ہے کہ ہائی کورٹ نے کہا کہ ان میں پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہیں، خاص طور پر جب فوٹیج میں ان کے چہرے کے تاثرات واضح نہیں ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

سپریم کورٹ نے 3 پولیس اہلکاروں کی پیشگی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے سخت تبصرہ کیا ہے۔ عدالت نے جوہری سے پیسے وصول کرنے کے معاملے میں یہ ضمانت منسوخ کی ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ جب قانون نافذ کرنے والے ہی جبراً وصولی کرنے والے بن جاتے ہیں تو شہری مشکل میں پڑ جاتے ہیں کیونکہ جن کی حفاظت کرنا ان کا فرض ہے وہی ان کے خلاف سیکورٹی مانگنے لگتے ہیں۔‘‘ تینوں پولیس اہلکار ایک جوہری سے جبراً وصولی کرنے کے ملزم ہیں۔ ایسے میں پولیس کا سامنا کرنا فوری جوابی کارروائی کو دعوت دینا ہے۔ شہری کے پاس واحد متبادل وردی پوش افسران کے سامنے خاموشی سے خود سپردگی کرنا ہی رہ جاتا ہے، خواہ وہ صریح زیادتی ہی کیوں نہ ہو۔

در اصل ایک والد اور ان کی نا بالغ بیٹی اپنے بہنوئی کے ساتھ ممبئی سے سفر کر رہے تھے۔ انہیں ریلوے اسٹیشن پر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ ان کے بیگ کی تلاشی کے دوران 14 گرام سونے کی چھڑ اور 31 ہزار 9 سو روپئے نقد برآمد ہوئے۔ اس کے بعد انہیں پاس کے ایک کمرے میں لیا جایا گیا اور سونے کی چھڑ کے عوض نقد رقم دینے کے لیے مجبور کیا گیا۔ والد نے واردات کے بعد فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کرائی جس کے بعد سیشن کورٹ نے افسران کی پیشگی ضمانت خارج کر دی۔ حالانکہ بامبے ہائی کورٹ نے جانچ کے دوران حاصل سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھنے کے بعد ان کی عرضی منظور کرلی۔ ہائی کورٹ کے مطابق ملزمین نے گلے میں شناختی کارڈ بھی ڈال رکھے تھے اور والد اور بیٹی میں کسی طرح کی پریشانی کی علامات نظر نہیں نہیں آئیں، اس کے ساتھ ہی ایف آئی آر درج کرانے میں تاخیر بھی ہوئی تھی۔


مہاراشٹر حکومت نے سپریم کورٹ میں خصوصی اجازت عرضی کے ذریعہ اسے چیلنج کیا۔ سماعت کے دوران ریاست کی جانب سے ایڈوکیٹ بھرت باگلہ نے کہا کہ مختلف ہدایات کے مطابق تلاشی اور ضبطی کی کارروائی مناسب ویڈیو ریکارڈنگ کے ساتھ کی جاتی ہے حالانکہ پولیس اہلکار دونوں باپ بیٹی کو ایک ایسے کمرے میں لے گئے جہاں کوئی کیمرہ نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست شہریوں کے خلاف وردی پوش افسران کے ذریعہ کی گئی ایسی زیادتیوں کو برداشت نہیں کرتی ہے اور عدالت کو بتایا کہ مناسب جانچ کے بعد تینوں افسران کو سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کی عرضی کو قبول کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمیں حیرت ہے کہ ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ کیا ہے کہ ان میں پریشانی کے کوئی آثار نہیں ہیں، خاص طور پر اس وقت جب فوٹیج میں ان کے چہرے کے تاثرات واضح نہیں ہیں۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ دونوں بالغ آگے بڑھ رہے تھے، ان میں سے ایک مسلسل اپنے ہاتھوں سے اشارہ کر رہا تھا جبکہ بچہ پیچھے پیچھے چل رہا تھا، جو یقینی طور سے پریشانی کی علامت ہے۔ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ بند کمرے میں گزارا گیا وقت پولیس اہلکاروں کے لیے شکایت میں درج کارروائی کرنے کے لیے کافی تھا جسے ہم یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کسی بھی حالت میں مجرمانہ مقدمے میں ثابت کرنا ہوگا۔‘‘


سپریم کورٹ کے سیئر وکیل نے اس دلیل کو بھی خارج کر دیا کہ ملزم پولیس افسران کے ذریعہ سونے کی چھڑ واپس کرنے سے جبراً وصولی کے الزام کی تردید ہوتی ہے اور کہا کہ سونے کی چھڑ لوٹانے سے ہی استغاثہ فریق کے معاملے کو مضبوطی ملتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔