مغربی بنگال کی ووٹر لسٹ ’عوامی‘ تو ہیں، لیکن الیکشن کمیشن نے کئی پردے ڈال رکھے ہیں
’آلٹ نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال کی 2026 کی ووٹر لسٹ ’عوامی‘ تو ہیں، لیکن انہیں پی ڈی ایف امیج کے طور پر شائع کیا گیا ہے، یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔

’’مرکزی الیکشن کمیشن اپنے ایرونیٹ سسٹم کے اندر انتخابی ڈیٹا کو ایک منظم اور مشین کے ذریعہ پڑھے جانے کے فارمیٹ میں رکھتا ہے۔ حالانکہ یہ عام لوگوں، محققین، اور یہاں تک کہ سیاسی جماعتوں کے لیے عوامی طور پر دستیاب ہونے والی چیزوں کو محدود کرتا ہے۔ اصل میں تشویش اس بات کی نہیں ہے کہ ڈیٹا کو منظم کیا جا سکتا ہے یا نہیں، کیونکہ یہ پہلے سے ہی منظم ہے۔ تشویش اس بات کی ہے کہ اس فارمیٹ میں اس کا استعمال کرنے کا حق کسے ملتا ہے۔‘‘ یہ تبصرہ ’آلٹ نیوز‘ نے جمعرات کی شام اپنی رپورٹ میں کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان کے الیکشن کمیشن کے طریقۂ کار میں شفافیت کی کمی کے متعلق ایک بار پھر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔
رپورٹ بتاتی ہے کہ ’’ووٹر لسٹ کو تلاش کے قابل اور مشین کے ذریعہ پڑھے جانے والی فائلوں کے طور پر اپلوڈ نہیں کیا گیا، بلکہ اسکین کی گئی پی ڈی ایف ایمج (تصاویر) کے طور پر اپلوڈ کیا گیا ہے، جو اصل میں شائع شدہ صفحات کی تصاویر ہیں۔ انہیں تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کوئی بامعنی تجزیہ نہیں نہیں کیا جا سکتا۔ ہر صفحہ جان بوجھ کر جانچ پڑتال سے بچنے کے لیے بنایا گیا ہے اور سیاسی کشمکش کے اس دور میں یہ ایک اہم سوال کھڑا کرتا ہے: جب عوامی ڈیٹا کو اصل میں استعمال کے لائق نہیں چھوڑا جائے تو اس کا فائدہ کسے ہوتا ہے؟‘‘ ایک اور شک جسے رپورٹ صاف طور پر ظاہر نہیں کرتی وہ یہ ہے کہ اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ مشین کے ذریعہ پڑھے جانے والے ڈیٹا کو چنندہ سیاسی پارٹیوں اور ایجنسیوں جیسے کہ بی جے پی کے ساتھ شیئر نہیں کیا جائے گا۔ ’آلٹ نیوز‘ کی مکمل رپورٹ اس لنک میں دیکھی جا سکتی ہے:
’آلٹ نیوز‘ نے گھنٹوں کی سخت محنت کے بعد تمام رکاوٹوں کو توڑا اور مغربی بنگال کے 2 انتخابی حلقوں کی ووٹر لسٹ کا تجزیہ کیا۔ لیکن اس سے قبل انہیں 3 خاص مشکلات کا سامنا کرنا پڑا:
پہلی رکاوٹ اس ڈیٹا تک رسائی کی تھی۔ صرف بھوانی پور حلقہ میں ہی 267 زون ہیں۔ الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ سے ایک بار میں صرف 10 علاقوں کی معلومات ہی ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے اور ہر بار ’کیپچا‘ ڈالنا پڑتا ہے۔ اس وجہ سے آٹومیشن پوری طرح سے رک گیا۔ مینوئل طریقے سے ڈاؤن لوڈ کرنے میں گھنٹوں لگ گئے۔
دوسری رکاوٹ فارمیٹ کی تھی۔ اسکَین کی گئی پی ڈی ایف فائلیں، اوسطاً ڈیجیٹل طور پر پڑھی جا سکنے والی فائلوں کے مقابلے میں 228 گنا بڑی ہوتی ہیں، پھر بھی ان میں کوئی بھی اندرونی اسٹرکچرڈ ڈیٹا نہیں ہوتا۔ یہ کوئی تکنیکی خامی نہیں ہے۔ بھارت آدھار، یو پی آئی اور ڈیجی لاکر جیسے سسٹم بڑے پیمانے پر چلاتا ہے۔ پی ڈی ایف کے ساتھ ساتھ ایک سی ایس وی (کاما سے الگ کی گئی اقدار والی ایک کمپیوٹرائزڈ فائل) شائع کرنا، اس کے مقابلے میں بہت ہی آسان کام ہے۔ ایسے فارمیٹ کا نہ ہونا ایک (جان بوجھ کر لیا گیا) فیصلہ ہے۔
تیسری رکاوٹ فائلوں کے اندر ہی موجود ہے۔ موٹے طور پر ہر 10 ووٹر انٹری میں سے ایک ترچھا ’انڈر ایڈجوڈیکیشن‘ واٹر مارک لگا ہوتا ہے، جو اکثر نام کو ہی ڈھانپ دیتا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں ہے۔ یہ براہ راست آٹومیٹڈ ڈیٹا نکالنے میں اور کچھ معاملات میں تو مینوئل طور سے پڑھنے میں بھی رکاورٹ ڈالتا ہے۔
رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’ہر تہہ جانچ کے ایک الگ مرحلہ کو نشانہ بناتی ہے: کیپچا ڈیٹا اکٹھا ہونے سے روکتا ہے، ایمج فارمیٹ تجزیہ کرنے سے روکتا ہے اور واٹر مارک پہچان کو روکتا ہے۔‘‘ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس یہ ڈیٹا پہلے سے ہی ایک منظم شکل میں موجود ہے۔ یہ پی ڈی ایف فائلیں ڈیٹا بیس سے ہی بنائی جاتی ہیں۔ اس لیے مشین کے ذریعہ پڑھے جانے کے قابل فائلوں کے بغیر، صرف اسکین کی گئی تصاویر شائع کرنا معلومات کو نہیں بلکہ اس کے استعمال کو روکنے کا ایک دانستہ طور پر لیا گیا فیصلہ ہے۔
الیکشن کمیشن آف انڈیا نے ایرونیٹ بنانے میں عوام کا پیسہ خرچ کیا یہ ایک سنٹرلائزڈ سسٹم ہے جس نے مغربی بنگال میں ایک کروڑ سے زیادہ ’لاجیکل گڑبڑیوں‘ کی نشاندہی کی، لیکن عوامی طور پر یہ بتانے سے منع کر دیا کہ یہ نشاندہی کیسے ہوئی۔ ایک جمہوریت میں جو ڈیٹا تکنیکی طور عوامی ہوتا ہے وہ عملی طور پر بھی قابل رسائی ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ ’’جب ایسا نہیں ہوتا تو رکاوٹ تکنیکی نہیں بلکہ سیاسی ہوتی ہے۔‘‘
یہ رپورٹ الیکشن کمیشن کے ذریعہ ماضی میں دیے گئے ان کئی دلائل کی یاد دلاتی ہے، جن کی بنیاد پر اس نے ووٹر لسٹ کو صرف امیج پر مبنی فارمیٹ تک محدود رکھا تھا۔ ’’جنوری 2018 میں اس نے تمام ریاستوں کے چیف الیکشن آفیسر کو ہدایت دی تھی کہ وہ ووٹر لسٹ کو امیج فائلوں کے طور پر شائع کریں۔ اس کے پیچھے اس نے ڈیٹا کی حفاظت سے متعلق خدشات – خصوصی طور پر غیر ملکی عناصر کے ذریعہ اس کے غلط استعمال کے خطرے – کا حوالہ دیا تھا۔‘‘
جب کانگریس لیڈر کمل ناتھ نے عدالت میں اس پالیسی کو چیلنج کیا تو کمیشن نے یہ دلیل دی کہ تلاش کے قابل اور مشین کے ذریعہ پڑھے جانے والے فارمیٹس سے بڑے پیمانے پر ’ڈیٹا مائننگ‘ ممکن ہو جائے گی، جس سے ووٹرس کی رازداری کی خلاف ورزی کا خدشہ ہے۔ سپریم کورٹ نے اس دعوے کی میرٹ کی بنیاد پر جانچ کرنے سے انکار کر دیا اور فارمیٹ کے انتخاب کا حق کمیشن کے صوابدید پر چھوڑ دیا۔
حال ہی میں اگست 2025 میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے دعویٰ کیا کہ مشین کے ذریعہ پڑھی جانے والی فائلیں اصل میں ’ممنوعہ‘ ہیں، کیونکہ انہیں ’ایڈٹ کیا جا سکتا ہے، جس سے ان کے غلط استعمال کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اس دلیل کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے، کیونکہ یہ تکنیکی طور پر دست نہیں ہے۔ کسی ڈیٹا سیٹ کی ڈاؤنلوڈ کی گئی کاپی کو ایڈٹ کرنے سے کمیشن کے پاس موجود اصل ریکارڈ میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی ہے اور نہ ہی ہو سکتی ہے۔ آفیشل فہرستوں کا اعتماد اس بات پر منحصر نہیں کہ انہیں عوامی طور پر کس فارمیٹ میں شیئر کیا جاتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔