مغربی بنگال: ایس آئی آر عمل کے بعد ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جانے کی عرضی پر سپریم کورٹ میں کل ہوگی سماعت

سینئر ایڈوکیٹ مینکا گروسوامی نے عدالت سے کہا کہ ’’یہ وہ ووٹرس ہیں جنہوں نے پہلے ووٹ دیا تھا، لیکن اب ان کی دستاویزات قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) عمل کے دوران ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے ناموں کے معاملے میں سپریم کورٹ منگل (10 مارچ) کو سماعت کرے گی۔ سینئر ایڈوکیٹ مینکا گروسوامی نے جیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت اور جسٹس جوئے مالیہ باغچی کی بنچ کے سامنے معاملہ پیش کرتے ہوئے فوری سماعت کا مطالبہ کیا، جس پر عدالت نے کل کی تاریخ دے دی۔

مینکا گروسوامی نے عدالت سے کہا کہ ’’یہ وہ ووٹرس ہیں جنہوں نے پہلے ووٹ دیا تھا، لیکن اب ان کی دستاویزات قبول نہیں کی جا رہی ہیں۔‘‘ سی جے آئی سوریہ کانت نے کہا کہ ’’ہم عدالتی افسران کے فیصلوں کے خلاف اپیل کو روک نہیں سکتے۔‘‘ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 24 فروری کو ایس آئی آر عمل میں 80 لاکھ دعووں اور اعتراضات کو نمٹانے کے لیے مغربی بنگال کے 250 ڈسٹرکٹ ججوں کے علاوہ سول ججز کی تعیناتی اور جھارکھنڈ اور اوڈیشہ سے عدالتی افسران کو بلانے کی اجازت دی تھی۔


سپریم کورٹ نے 22 فروری کو کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوئے پال کے خط پر بھی غور کیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ایس آئی آر میں تعینات 250 ڈسٹرکٹ ججوں کو بھی دعووں اور اعتراضات کو نمٹانے میں تقریباً مزید 80 دن لگ سکتے ہیں۔ 2002 کی ووٹر لسٹ میں درج معقول تضادات میں والدین کے ناموں کا میل نہ کھانا، ووٹرس اور اس کے والدین کی عمر میں 15 سال سے کم یا 50 سال سے زائد کا فرق ہونا شامل ہے۔

سی جے آئی سوریہ کانت نے نئی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہر عدالتی افسر روزانہ 250 دعووں اور اعتراضات کو نمٹائے تب بھی یہ عمل تقریباً 80 دن میں مکمل ہوگا۔ واضح رہے کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے عمل کو مکمل کرنے کی آخری تاریخ 28 فروری تھی۔ قابل ذکر ہے کہ سپریم کورٹ نے 9 فروری کو واضح کیا تھا کہ کوئی بھی شخص ایس آئی آر کے مکمل عمل میں رکاوٹ نہیں ڈال سکتا۔ ساتھ ہی عدالت نے مغربی بنگال کے ڈی جی پی کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بھیجے گئے نوٹس کچھ لوگوں کے ذریعے جلائے جانے کے الزامات پر حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔