مغربی بنگال: ٹریبونل سے کلین چٹ ملنے پر لوگ دے سکیں گے ووٹ، سپریم کورٹ کے اہم فیصلہ کا ممتا بنرجی نے کیا استقبال

سپریم کورٹ نے کہا کہ ’’نام ہٹانے کے خلاف جن لوگوں کی اپیل پر ٹریبونل فیصلہ دے دے گا، وہ لوگ بنگال انتخاب میں اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ آف انڈیا /آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ کی خصوصی گہری نظر ثانی (ایس آئی آر) تنازعہ کے درمیان سپریم کورٹ نے آرٹیکل 142 کا استعمال کرتے ہوئے اہم حکم دیا ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ نام ہٹانے کے خلاف جن لوگوں کی اپیل پر ٹریبونل فیصلہ دے دے گا، وہ لوگ بنگال انتخاب میں اپنے ووٹ کا استعمال کر سکیں گے۔ سپریم کورٹ نے 34 لاکھ سے زائد زیر التوا اپیلوں کو دیکھتے ہوئے واضح ڈیڈ لائن مقرر کی ہے، تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر ووٹ دینے سے محروم نہ رہے۔

ممتا بنرجی نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا استقبال کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سب سے صبر رکھنے کے لیے کہہ رہی تھی۔ آج سپریم کورٹ نے حکم جاری کر دیا ہے۔ اپیل فائل کرنے والوں کی درخواستوں پر ٹریبونل 21 تاریخ تک فیصلہ لے گا اور سپلیمنٹری ووٹر لسٹ 23 اپریل کو پہلے مرحلہ کی ووٹنگ سے قبل شائع کی جائے گی۔ 29 تاریخ کو دوسرے مرحلہ کی ووٹنگ کے لیے بھی یہی طریقہ کار اپنایا جائے گا۔ میں تمام متعلقہ فریق سے گزارش کرتی ہوں کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ووٹر لسٹ اسی رات تک بھیج دی جائے۔ میں خوش ہوں اور مجھے عدلیہ پر فخر ہے۔ فیصلہ میری عرضی پر مبنی ہے، مجھے سپریم کورٹ پر فخر ہے۔


واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے مغربی بنگال کے انتخاب کے دوران ایس آئی آر تنازعہ کے پیش نظر شہریوں کے حق رائے دہی کے تحفظ کے لیے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کیا ہے۔ ووٹر لسٹ سے نام نکالے جانے کے خلاف اعتراضات سے متعلق 34 لاکھ سے زائد اپیلیں زیر التوا ہونے کی وجہ سے، سپریم کورٹ نے ایک واضح ڈیڈ لائن مقرر کر دی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی بھی اہل ووٹر اپنے جمہوری حق سے محروم نہ رہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق مغربی بنگال میں 23 اپریل کو ہونے والے پہلے مرحلے کے انتخاب کے لیے، جن افراد کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 21 اپریل تک فیصلہ سنا دے گا، وہ ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح جن کی اپیل پر اپیلٹ ٹریبونل 27 اپریل تک فیصلہ کر دے گا، وہ 29 اپریل کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈال سکیں گے۔"

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو ایسے لوگوں کے لیے سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جہاں اپیلٹ ٹریبونل 21 اپریل تک لوگوں کی اپیلوں پر فیصلہ کرے گا، وہاں الیکشن کمیشن ان کے ناموں کی ایک سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری کرے گا۔ اس ووٹر لسٹ میں جن کا بھی نام ہوگا، وہ تمام 23 اپریل کو پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔ اسی طرح 27 اپریل تک فیصلہ ہونے والے ناموں کی بھی ایک سپلیمنٹری ووٹر لسٹ جاری ہوگی، جو 29 اپریل کو دوسرے مرحلے میں ووٹ ڈالنے کے اہل ہوں گے۔


حالانکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ووٹر لسٹ سے باہر کیے جانے کے خلاف صرف اپیل کر دینے سے کوئی شخص ووٹ دینے کا حقدار نہیں بن جائے گا۔ بنچ نے فیصلے میں کہا کہا کہ ’’حالانکہ یہ کہنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اپیلٹ ٹریبونل کے سامنے فہرست سے نکالے گئے لوگوں کی اپیل محض زیر التوا ہونے سے انہیں ووٹ دینے کا حق نہیں ملے گا۔‘‘ یعنی ٹربیونل میں صرف اپیل دائر کر دینے سے یہ حکم نافذ نہیں ہوگا۔ اپیل پر ٹریبونل سے کلین چٹ ملنے پر ہی اپیل کنندہ ووٹ ڈالنے کا اہل ہوگا۔

سپریم کورٹ کے مطابق اگر کسی اپیل کو ٹریبونل سے کلین چٹ ملتی ہے، تو متعلقہ ووٹر کو اہل مانتے ہوئے مغربی بنگال میں یہ حکم موثر ہوگا۔ عدالت نے کہا کہ ووٹ ڈالنا نہ صرف ایک آئینی حق ہے بلکہ یہ ایک جذباتی حق بھی ہے۔ اس فیصلے کے ذریعے انتخابی عمل میں شفافیت برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔