مغربی بنگال: سابق ڈپٹی اسپیکر آشیش بنرجی کی لاش دفتر سے برآمد، پوسٹ مارٹم کے لیے بھیجی گئی

اپنے سیاسی کیریئر کے دوران آشیش بنرجی نے تعلیم اور زراعت جیسے اہم محکموں کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہوئے ریاست میں کئی منصوبوں پر کام کیا۔ وہ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دے چکے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

مغربی بنگال کے سینئر سیاست داں اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے سابق رکن اسمبلی آشیش بنرجی کی لاش اتوار کے روز بیر بھوم ضلع کے رام پورہاٹ میں واقع ان کی رہائش گاہ کے دفتر سے برآمد ہوئی۔ خبر رساں ایجنسی ’آئی اے این ایس‘ کے مطابق پولیس نے لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا ہے۔ موت کی وجوہات کا اب تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ معاملے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی بڑی تعداد میں پارٹی کارکنان اور مقامی لوگ ان کے دفتر کے باہر جمع ہو گئے۔ موقع پر پہنچ کر پولیس نے جائے وقوعہ کی جانچ شروع کر دی ہے۔ موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم رپورٹ اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہو سکے گی۔

آشیش بنرجی مغربی بنگال کی سیاست کا ایک معروف نام تھے۔ وہ رام پورہاٹ اسمبلی نشست سے مسلسل 5 بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس وقت کی ممتا بنرجی حکومت میں انہوں نے اسکولی تعلیم، زراعت اور آیوش محکموں کے وزیر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے مغربی بنگال اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے پر بھی خدمات انجام دیں۔ اپنے سیاسی کیریئر کے دوران آشیش بنرجی نے تعلیم اور زراعت جیسے اہم محکموں کی ذمہ داری سنبھالتے ہوئے ریاست میں کئی منصوبوں پر کام کیا۔ ڈپٹی اسپیکر کی حیثیت سے بھی وہ اسمبلی کی کارروائی میں فعال کردار ادا کرتے تھے۔


رواں سال 2026 میں ہوئے مغربی بنگال اسمبلی انتخاب میں وہ رام پورہاٹ سیٹ سے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے امیدوار دھرو ساہا کے ساتھ سخت مقابلے میں انتخاب ہار گئے تھے۔ شکست کے باوجود وہ علاقے میں سرگرم رہے اور پارٹی کارکنان سے رابطے میں تھے۔ ان کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی رام پورہاٹ میں سوگ کی لہر دوڑ گئی۔ ان کے حامی رہائش گاہ کے باہر جمع ہو گئے اور واقعے کو لے کر طرح طرح کی قیاس آرائیاں ہونے لگیں۔ پولیس نے فی الحال لاش کو اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔