مغربی بنگال 2021 انتخابات کے بعد ہوئے تشدد کی جانچ شروع، دوبارہ کھولے گئے 59 معاملے، 181 نئی ایف آئی آر درج

مغربی بنگال انتظامیہ کی جانب سے متاثرہ خاندانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی شکایت درج کرائیں، خواہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت نہ ہوں۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ہر شکایت کی جانچ کی جائے گی۔

<div class="paragraphs"><p>بنگال میں تشدد / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی بنگال میں اسمبلی انتخابات 2021 کے بعد ہوئے تشدد کے معاملوں کی جانچ ایک بار پھر شروع ہو گئی ہے۔ تازہ معلومات کے مطابق جانچ ایجنسیوں نے اب تک 458 نئی تحقیقات شروع کی ہیں، 181 نئی ایف آئی آر درج کی گئی ہیں اور 59 ایسے معاملوں کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے جن میں پہلے حتمی رپورٹ داخل کی جا چکی تھی۔ انتظامیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان معاملوں میں جانچ کی کارروائی اب بھی جاری ہے اور کئی سطحوں پر ثبوت حاصل کرنے کا کام کیا جا رہا ہے۔

اس دوران ریاستی انتظامیہ کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ پولیس کو ہدایات دی گئی ہیں کہ سبھی زیر التوا قتل اور حملے سے متعلق معاملوں میں بھارتیہ نیائے سہنتا (بی این ایس) کے تحت ایف آئی آر درج کی جائیں۔ متاثرہ خاندانوں سے بھی اپیل کی گئی ہے کہ وہ آگے آئیں اور اپنی شکایت درج کرائیں، خواہ ان کے پاس ٹھوس ثبوت نہ ہوں۔ حکومت نے یقین دلایا ہے کہ ہر شکایت کی غیر جانبدارانہ جانچ کی جائے گی۔


اس پورے معاملے پر ریاست کی سیاست گرم ہو گئی ہے۔ ترنمول کانگریس کے سینئر لیڈر ابھشیک بنرجی نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انتخابات کے دوران تشدد کو روکنے میں مرکزی فورس ناکام رہیں۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کئی مقامات پر ٹی ایم سی امیدواروں اور ایجنٹوں کو ووٹوں کے گنتی مراکز سے باہر کر دیا گیا تھا۔

سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے بھی اس معاملے میں اپنے رد عمل کا اظہار کیا اور تشدد متاثرہ لوگوں کو فوری سیکورٹی دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ریاست میں کئی مقامات پر آگ زنی اور توڑ پھوڑ کی وارداتیں ہوئیں جس میں خواتین اور بچوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔


غور طلب ہے کہ حال ہی میں اختتام پذیر اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج میں بی جے پی نے 207 سیٹوں کے ساتھ اکثریت حاصل کر کے پہلی بار بنگال میں حکومت بنائی ہے جبکہ ترنمول کانگریس کو 80 سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ تبدیلی اقتدار کے بعد سے ریاست میں سیاسی کشیدگی اور تحقیقاتی کارروائیاں لگاتار سرخیاں حاصل کر رہی ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔