معروف شاعر منور رانا ’لو جہاد‘ کے خلاف بننے والے قانون کی حمایت کریں گے، لیکن...

اپنے ایک ٹوئٹ میں منور رانا لکھتے ہیں کہ ’’اس (لو جہاد) پر بنے قانون کو ہم حمایت اس شرط پر دیتے ہیں کہ اس کی شروعات پہلے مرکزی حکومت میں بیٹھے دو بڑے ’ل. جہادیوں‘ سے کی جائے۔‘‘

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

تنویر

گزشتہ کچھ عرصہ سے یوگی حکومت کے خلاف ببانگ دہل آواز بلند کرنے والے مشہور و معروف شاعر منور رانا نے ’لو جہاد‘ کے خلاف بنائے جانے والے قانون کے تعلق سے اپنا رد عمل سوشل میڈیا کے ذریعہ ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے اس تعلق سے یکے بعد دیگرے دو ٹوئٹ کیے ہیں۔ پہلے ٹوئٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’یوں تو لو جہاد صرف ایک جملہ ہے جو سماج میں نفرت پھیلانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس سے سب سے زیادہ نقصان تو مسلم لڑکیوں کا ہی ہوتا ہے کیونکہ لڑکے کہیں اور شادی کر لیتے ہیں۔‘‘

اپنے دوسرے ٹوئٹ میں منور رانا لکھتے ہیں ’’اس (لو جہاد) پر بنے قانون کو ہم حمایت اس شرط پر دیتے ہیں کہ اس کی شروعات پہلے مرکزی حکومت میں بیٹھے دو بڑے ’ل. جہادیوں‘ سے کی جائے تاکہ بعد میں 2 مسلم لڑکیوں کے نکاح ان سے ہو سکیں، اور جن بھی بی جے پی لیڈ یا ان کے اہل خانہ کے لوگوں نے غیر مذاہب میں شادیاں کی ہیں ان پر بھی کارروائی ہو۔‘‘


منور رانا کے اس ٹوئٹ کو اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ اور ان بی جے پی حکمراں ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ کے لیے طنز تصور کیا جا رہا ہے، جنھوں نے لو جہاد کے خلاف قانون بنائے جانے کی سمت قدم بڑھایا ہے، یا اس کی حمایت میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ دراصل بی جے پی کے کچھ سرکردہ مسلم لیڈران نے ہندو لڑکی سے شادی کی ہے، اور کچھ ہندو لیڈران نے مسلم لڑکی سے بھی شادی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی لو جہاد کے خلاف قانون بنانے کی بات ہوتی ہے تو بی جے پی مخالف پارٹیاں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ مبینہ طور پر لو جہاد کرنے والے بی جے پی لیڈران کے خلاف کارروائی ہوگی یا نہیں!

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔