پنجاب اور راجستھان سمیت 9 ریاستوں میں تیزی سے خالی ہو رہے آبی ذخائر، اتر پردیش اور دہلی پر بھی بڑھ رہا دباؤ
تازہ ترین سروے کے مطابق قومی راجدھانی دہلی میں نشاندہی کی گئی 34 یونٹوں میں سے 29.41 فیصد بہت زیادہ دباؤ اور 32.35 فیصد سنگین زمرے میں ہیں۔ صرف 20.59 فیصد یونٹیں محفوظ مانی گئی ہیں۔

ملک میں زیر زمین پانی کے وسائل پر دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ نیشنل گراؤنڈ واٹر سروے کے تازہ ترین اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب، راجستھان اور ہریانہ زیر زمین پانی بحران کے سب سے بڑے ہاٹ اسپاٹ بن چکے ہیں، جب کہ اتر پردیش، مدھیہ پردیش، دہلی، تمل ناڈو، کرناٹک اور پڈوچیری میں صورتحال اس سے بھی تشویشناک ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو آنے والے سالوں میں کئی علاقوں میں پینے کے پانی اور آبپاشی دونوں کے لیے سنگین چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ نیشنل بیورو آف گراؤنڈ واٹر ریچارج (این بی جی آر آئی) کے ذریعہ تیار کردہ نیشنل گراؤنڈ واٹر سروے 2025 کے مطابق ملک میں تمام تشخیص شدہ یونٹوں کی حالت سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین پانی کا بحران علاقائی طور پر مرکوز ہے۔
پنجاب میں نشاندہی کی گئی 153 یونٹوں میں سے 72.55 فیصد یونٹیں بہت زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ صرف 11.11 فیصد یونٹیں ہی محفوظ زمرے میں بچی ہوئی ہیں۔ اسی طرح راجستھان کی 302 یونٹوں میں 70.53 فیصد یونٹیں بہت زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ جبکہ ہریانہ کی 143 یونٹوں میں یہ تناسب 63.64 فیصد ہے۔
قومی راجدھانی دہلی میں نشان زد کی گئی 34 یونٹوں میں سے 29.41 فیصد بہت زیادہ استعمال اور 32.35 فیصد سنگین زمرے میں ہیں۔ صرف 20.59 فیصد یونٹیں محفوظ مانی گئی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیر زمین پانی پر شہری کاری اور بڑھتی ہوئی آبادی کا دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اتر پردیش میں 836 یونٹوں کی تشخیص کی گئی۔ ان میں سے 67.34 فیصد یونٹیں محفوظ زمرے میں ہیں، جب کہ 20.45 فیصد نیم سنگین، 5.74 فیصد کریٹیکل اور 6.46 فیصد زیادہ استعمال والے زمرے میں ہیں۔ ریاست کے بڑے سائز کو دیکھتے ہوئے اس فیصد کو مستقبل کے لیے وارننگ سمجھا جا رہا ہے۔ مدھیہ پردیش میں تشخیص شدہ 317 یونٹوں میں سے 69.72 فیصد محفوظ ہیں۔
جنوبی ہندوستان میں ریاستوں کے درمیان بڑے تغیرات نظر آتے ہیں۔ تمل ناڈو میں 313 تشخیص شدہ یونٹوں میں سے صرف 38.66 فیصد محفوظ ہیں، جب کہ 32.91 فیصد زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ اس کے علاوہ 19.49 فیصد نیم سنگین زمرے میں اور 7.35 فیصد سنگین زمرے میں آتی ہیں۔ کرناٹک میں 61.18 فیصد یونٹیں محفوظ ہیں، جب کہ 18.99 فیصد زیادہ استعمال کے زمرے میں ہیں۔ تلنگانہ میں 76.29 فیصد، آندھرا پردیش میں 88.5 فیصد اور کیرالہ میں 80.92 فیصد یونٹیں محفوظ زمرے میں ہیں۔ پڈوچیری میں 12.5 فیصد یونٹیں زیادہ استعمال شدہ زمرے میں درج کی گئی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
