’کیا ان کا گناہ ترنگا لہرانا تھا؟‘ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو 5 روزہ عدالتی حراست میں تہاڑ بھیجنے پر ابھجیت دپکے کا سوال
اجنکیا شندے کو پولیس نے ’پیس بانڈ‘ بھروانے کے بعد چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ سورو داس اور آشوتوش رانکا کو ضمانتی بانڈ کی شرطیں توڑنے کے جرم میں 5 روزہ عدالتی حراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا گیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والے جین-زی طبقہ کی قیادت کر رہے ابھجیت دپکے نے سورو داس اور آشوتوش رانکا کو تہاڑ جیل بھیجے جانے پر سوال اٹھائے ہیں۔ انھوں نے پوچھا ہے کہ آخر دونوں نے غلطی کیا کی تھی؟ انھوں نے سوال کیا کہ ’’کیا جنتر منتر پر ترنگا لہرانے کی کوشش کرنا گناہ تھا؟‘‘
دراصل سورو داس اور آشوتوش رانکا کو 5 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے بعد انھیں تہاڑ جیل لے جایا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق سورو اور آشوتوش نے بی این ایس ایس کی دفعہ 163 کی دوبارہ خلاف ورزی کی ہے۔ پولیس نے انھیں غلطی دہرانے کا ملزم بتاتے ہوئے ان کے پچھلے رویہ کا حوالہ دیا۔ پولیس نے یہ بھی بتایا کہ دونوں نے ضمانتی بانڈ کی شرائط کو توڑا ہے، جس کے بعد عدالت نے انھیں 5 دنوں کی عدالتی ھراست میں تہاڑ جیل بھیج دیا ہے۔
اس معاملہ میں ابھجیت دپکے نے اپنا سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ جاری کی ہے۔ اس پوسٹ میں انھوں نے لکھا ہے کہ ’’آشو اور سورو کو 5 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی غلطی؟ جنتر منتر پر ترنگا لہرانا۔‘‘ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ اور دہلی اسمبلی میں حزب اختلاف کی قائد آتشی نے بھی سورو اور آشوتوش کے خلاف کارروائی کی تنقید کی ہے۔ انھوں نے بھی سوال کیا ہے کہ آخر ان کا گناہ کیا تھا؟
قابل ذکر ہے کہ سورو داس اور آشوتوش رانکا کے ساتھ ساتھ اجنکیا شندے کو بھی دہلی پولیس نے گزشتہ روز گرفتار کیا تھا۔ منگل کے روز یہ کارروائی اس وقت ہوئی تھی جب سورو داس، آشوتوش رانکا اور اجنکیا شندے بیریکیڈنگ والے جنتر منتر علاقہ میں داخل ہوئے اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بازی کی۔ آج ایس ای ایم کورٹ نے سورو اور آشوتوش کو 5 دنوں کی عدالتی حراست میں جیل بھیجنے کا فیصلہ سنایا، جبکہ اجنکیا کو پولیس نے ’پیس بانڈ‘ بھروانے کے بعد چھوڑ دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
