خلیجی جنگ کا اثر: ہندوستانی برآمدات سست روی کا شکار، شپنگ کمپنیوں کی اضافی ایمرجنسی فیس نافذ

سال 2025 میں ہندوستان نے ایران کو تقریباً 124 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی تھیں۔ اس میں 74.7 کروڑ ڈالر کا چاول برآمد کیا گیا جبکہ 6.1 کروڑ ڈالر کے کیلے اور5.1 کروڑ ڈالر کی چائے کی پتی سپلائی کی گئی۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر العربیہ ڈاٹ نیٹ</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

 ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں اور اس کے نتیجے میں ایران کے جوابی حملوں نے مغربی ایشیا کے سمندری راستوں کو خطرناک بنا دیا ہے۔ سیکورٹی کے بڑھتے ہوئے خطرے کے درمیان شپنگ کمپنیوں نے خلیج اور آس پاس کے ممالک کے لیے کارگو پر 2,000 سے 4,000 ڈالر فی کنٹینر تک اضافی ایمرجنسی جنگی ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ ان ڈیوٹی کے اثرات سے ہندوستان کا برآمدی کاروبار عملی طور پر ٹھپ پڑ گیا ہے۔ وزارت تجارت انتہائی ترجیح کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔

صنعت اور حکومتی ذرائع کے مطابق 2 مارچ سے لاگو کی گئیں ان اضافی ڈیوٹیوں نے برآمد کنندگان کی لاگت کے ڈھانچے کو اچانک تبدیل کر دیا ہے۔ شپنگ کمپنیوں نے واضح کیا ہے کہ یہ عارضی ڈیوٹی فیس مغربی ایشیا میں حساس سمندری راستوں پربڑھتے ہوئے آپریشنل خطرات کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔ وہیں برآمد کنندگان کا کہنا ہے کہ موجودہ مارجن کے ساتھ اتنے زیادہ اضافی اخراجات برداشت کرنا ممکن نہیں ہے۔ یہ فیس ہندوستان سے عراق، بحرین، کویت، یمن، قطر، عمان، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، اردن، مصر کی عین سوکھانا بندرگاہ، زبوتی، سوڈان اور اریٹیریا کے لیے ہونے والی ترسیل پر لاگو ہوگی۔ ان ممالک سے ہندوستان کی درآمدات پر بھی یہی شرائط موثر ہوں گی۔


زرعی اور متعلقہ مصنوعات کی کھیپ نہ صرف سمندری راستے سے بلکہ ہوائی راستے سے بھی روکی جا رہی ہے۔ بحران کا ایک اور پہلو بندرگاہوں پر کارگو کا بیک لاگ ہے۔ جن کنٹینروں کی لوڈنگ ان منزلوں کے لیے مقرر تھی انہیں فی الحال روکا جارہا ہے۔ نتیجے کے طور پر پورٹ آپریٹرز روزآنہ تقریباً 100 ڈالر فی کنٹینر گراؤنڈ چارج وصول کر سکتے ہیں۔ اس سے برآمد کنندگان کو دوہرا جھٹکا لگا ہے۔

دہلی میں واقع تھنک ٹینک  گلوبل ٹریڈ ریسرچ انیشیٹو کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 میں ہندوستان نے ایران کو تقریباً 124 کروڑ ڈالر کی برآمدات کی تھیں۔ اس میں 74.7 کروڑ ڈالر کا چاول برآمد ہوا جبکہ 6.1 کروڑ ڈالر کے کیلے اور 5.1 کروڑ ڈالر کی چائے کی پتی سپلائی کی گئی۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر سمندری راستہ طویل عرصے تک منقطع رہا تو اس کے فوری اور وسیع اثرات زرعی برآمدات پر پڑیں گے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔