آسٹریلیا میں ویزا کے اصول تبدیل، اب ہندوستانیوں کو دینا ہوگا فنگر پرنٹ!

آسٹریلیا میں ویزا کے عمل کا انتظام کرنے والی وزارت داخلہ (ڈپارٹمنٹ آف ہوم افیئرز) درخواست دہندگان کو بتائے گی کہ انہیں بایومیٹرکس فراہم کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ویزا / علامتی تصویر</p></div>
i

آسٹریلیا کی حکومت نے ویزا قوانین میں تبدیلی کر دی ہے۔ 26 اکتوبر 2026 سے آسٹریلیا کے نئے ویزا کے لیے درخواست دینے والے ہندوستانیوں کو انگلیوں کے نشانات (فنگر پرنٹ) اور چہرے کی تصویر فراہم کرنی پڑ سکتی ہے۔ یہ ضابطہ صرف 26 اکتوبر یا اس کے بعد دی جانے والی درخواستوں پر نافذ ہوگا۔ اس سے قبل درخواست دینے والوں اور جن لوگوں کو ویزا مل چکا ہے، ان پر اس تبدیلی کا کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

آسٹریلیا میں ویزا کے عمل کا انتظام کرنے والی وزارت داخلہ (ڈپارٹمنٹ آف ہوم افیئرز) درخواست دہندگان کو بتائے گی کہ انہیں بایومیٹرکس فراہم کرنے کی ضرورت ہے یا نہیں۔ جن درخواست دہندگان کے لیے یہ لازمی ہوگا، انہیں اس عمل کو مکمل کرنے کے طریقے کے بارے میں بھی ہدایات دی جائیں گی۔ عام طور پر یہ اطلاع درخواست دہندہ یا اس کے مجاز ایجنٹ کو ای میل کے ذریعہ بھیجی جائے گی۔ درخواست دہندگان کے انفرادی حالات کی بنیاد پر انہیں ہندوستان میں موجود آسٹریلیا کے 16 بایومیٹرکس جمع کرنے والے مراکز میں سے کسی ایک پر جانے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔ ان مراکز کا انتظام وی ایف ایس گلوبل کرتی ہے۔ کچھ اہل درخواست دہندگان کو ’آسٹریلین اِمی ایپ‘ کے ذریعہ ڈیجیٹل طور پر بایومیٹرکس فراہم کرنے کی سہولت بھی مل سکتی ہے۔


آسٹریلیائی حکومت کے مطابق بایومیٹرکس پروگرام کو وسعت دینے سے درخواست دہندگان کی حفاظت یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان لوگوں کی آمد و رفت کو آسان بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان عوامی روابط پہلے سے زیادہ مضبوط ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد میں ہندوستانی شہری آسٹریلیا گھومنے، تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے اور وہاں نئے تعلقات قائم کرنے کے لیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں حکومت چاہتی ہے کہ ویزا درخواست کا عمل محفوظ، مؤثر اور قابل اعتماد بنا رہے۔ بایومیٹرکس کسی شخص کی شناخت کی تصدیق کرنے کا ایک قابل اعتماد طریقہ ہے۔ اس سے حقیقی درخواست دہندگان کو شناخت کے غلط استعمال سے بچانے، دھوکہ دہی کے واقعات کم کرنے اور آسٹریلیا کے امیگریشن نظام کی ساکھ مضبوط کرنے میں مدد ملتی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ آسٹریلیا تقریباً 60 ممالک میں ویزا درخواست دہندگان سے پہلے ہی بایومیٹرکس جمع کرتا ہے۔ اب ہندوستان کو بھی اس پروگرام میں شامل کرنے سے آسٹریلیا کا نظام بین الاقوامی سطح پر رائج طریقۂ کار کے مطابق ہو جائے گا۔ اس کے ساتھ ہی اہل درخواست دہندگان کو آسٹریلین امی ایپ کے ذریعے ڈیجیٹل متبادل بھی فراہم کیا جائے گا۔ آسٹریلیائی حکومت کے مطابق بایومیٹرکس جمع کرنے کے نئے نظام سے ویزا کے عمل میں تاخیر کا خدشہ نہیں ہے، بشرطیکہ درخواست دہندگان اطلاع ملنے کے بعد وقت پر تمام ضروری کارروائیاں مکمل کر لیں۔ درخواست دہندگان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ بایومیٹرکس کے لیے وقت لینے یا آسٹریلین امی ایپ استعمال کرنے سے پہلے وزارت داخلہ کی جانب سے ای میل کے ذریعے بھیجے گئے سرکاری ہدایتی خط کا انتظار کریں۔


حکومت نے واضح کیا ہے کہ بایومیٹرکس سے متعلق معلومات کا انتظام آسٹریلیا کے قوانین اور متعلقہ مقامی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔ ذاتی معلومات کو محفوظ طریقے سے پراسیس کیا جائے گا اور خفیہ کاری کے طریقوں کے ذریعے منتقل کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے ایسے حفاظتی اقدامات کیے گئے ہیں، جن سے معلومات کا استعمال قانونی تقاضوں کے مطابق اور محفوظ طریقے سے یقینی بنایا جا سکے۔ درخواست دہندگان کو یہ مشورہ بھی دیا گیا ہے کہ بایومیٹرکس جمع کرنے کے عمل کے لیے صرف آسٹریلیا کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور صرف سرکاری ویب سائٹس استعمال کریں۔ خدمات فراہم کرنے والوں کی جانب سے پیش کی جانے والی اختیاری خدمات کا ویزا کے عمل میں لگنے والے وقت یا درخواست کے نتیجے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔