ونیش پھوگاٹ نے انکیتا بھنڈاری کیس میں کی جذباتی اپیل، بیٹیوں کے تحفظ پر طلب کیا جواب

صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو مخاطب کرتے ہوئے پھوگاٹ نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’راشٹر پتی جی آپ خود ایک خاتون ہیں، کبھی دل پہ ہاتھ رکھ کر پوچھئے کہ ملک کی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ابھی تک کیا کیا گیا ہے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ونیش پھوگاٹ / آئی اے این ایس</p></div>
i

ہندوستانی پہلوان ونیش پھوگاٹ نے انکیتا بھنڈاری قتل معاملے میں سوشل میڈیا پر جذباتی اور سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آخر کب تک بیٹیوں کو کھونے والے کنبے انصاف کے لیے در در بھٹکتے رہیں گے اور اقتدار میں بیٹھے لوگ اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑتے رہیں گے۔ پھوگاٹ نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو ٹیگ کرتے ہوئے ملک میں خواتین کی سلامتی کے حوالے سے بھی سوالات اٹھائے۔ ونیش پھوگاٹ کا یہ ردعمل ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب انکیتا بھنڈاری کے والدین اپنی بیٹی کو انصاف دلانے اور اس معاملے میں مبینہ وی آئی پی کردار کی تحقیقات کے مطالبے کو لے کر جدوجہد کر رہے ہیں۔ دہلی میں انڈیا گیٹ کے قریب احتجاج کے دوران انہیں حراست میں لے لیا گیا۔ بعد میں جمعرات کے روز (15 اکتوبر) کی صبح تقریباً 5 بجے رہا کر دیا گیا۔

ونیش پھوگاٹ نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ایک بیٹی کے قتل کے بعد والدین کو در بدر بھٹکنا پڑتا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ بیٹی کھونے والے والدین پر کیا گزرتی ہوگی اور انہیں انصاف کے لیے اتنا انتظار کیوں کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ملک میں خواتین کے خلاف جرائم اور قصورواروں کے تئیں معاشرے کے رویے پر بھی سوال اٹھائے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’راشٹر پتی جی آپ تو خود ایک خاتون ہیں، کبھی اپنے آپ سے دل پہ ہاتھ رکھ کر پوچھئے کہ ملک کی بیٹیوں کی حفاظت کے لیے ابھی تک کیا کیا گیا ہے۔‘‘ انکیتا بھنڈاری کے والدین نے سکم کے گورنر کے طور پر دشینت کمار گوتم کی تقرری کی مخالفت کی ہے۔ خاندان کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی سی بی آئی تحقیقات مکمل ہونے تک ان کی تقرری پر روک لگائی جائے۔ انکیتا کے والد نے مرکزی حکومت کو 24 گھنٹے کا الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا کہ مطالبہ تسلیم نہ کیے جانے پر ملک گیر تحریک شروع کی جائے گی۔


قابل ذکر ہے کہ انکیتا کے والدین کی حمایت میں کانگریس کے سرکردہ لیڈران نے بھی گزشتہ شب مظاہرہ کیا، جس میں کچھ لیڈران کو حراست میں بھی لیا گیا اور بعد میں رہا کر دیا گیا تھا۔ انکیتا بھنڈاری کے کنبے اور کچھ کارکنوں نے قتل معاملہ میں مبینہ وی آئی پی کردار کو لے کر سوالات اٹھائے ہیں۔ دشینت کمار گوتم نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی تردید کی ہے اور ہتک عزت کی کارروائی شروع کی ہے۔ اس لیے ان الزامات کو تحقیقات میں ثابت شدہ حقیقت نہیں مانا جا سکتا۔ 19سالہ انکیتا بھنڈاری رشی کیش کے وننترا ریزورٹ میں ریسپشنسٹ کے طور پر کام کرتی تھیں۔ 18 ستمبر 2022 کو قتل کر دیا گیا تھا۔ 4 دنوں کے بعد ان کی لاش چلا نہر سے برآمد ہوئی تھی۔ اس معاملے میں ریزورٹ کے مالک پلکت آریہ اور اس کے 2 ساتھیوں کو قصوروار ٹھہرایا گیا تھا۔ تینوں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ حالانکہ معاملے میں مبینہ وی آئی پی کردار کی تحقیقات کے مطالبے انکیتا بھنڈاری کنبے اور سماجی کارکنوں کی جانب سے مسلسل اٹھائے جاتے رہے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔