وجے مالیہ کی ہندوستان حوالگی کا راستہ صاف، برطانوی سپریم کورٹ سے درخواست مسترد

بینکوں کے ساتھ نو ہزار کروڑ روپے کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں مطلوبہ مفرور شراب کاروباری وجے مالیہ کو اس وقت جھٹکا لگا، جب برطانوی سپریم کورٹ نے اس کی درخواست مسترد کر دی

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

لندن: بینکوں کے ساتھ نو ہزار کروڑ روپے کی دھوکہ دہی اور منی لانڈرنگ کے معاملے میں مطلوبہ مفرور شراب کاروباری وجے مالیہ کو جمعرات اس وقت زبردست جھٹکا لگا، جب برطانیہ کی سپریم کورٹ نے اس کی ہندوستان حوالگی کے خلاف اپیل سے متعلق درخواست مسترد کر دی۔

درخواست مسترد ہونے کے بعد مانا جا رہا ہے کو مالیہ کو 28 دن کے اندر اندر ہندوستان کے حوالے کیا جا سکتا ہے۔ درخواست مسترد ہونے کے بعد وجے مالیہ کے پاس برطانیہ میں تقریبا تمام طرح کے قانونی متنادل ختم ہو چکے ہیں۔ اب اسے 28 دن کے اندر ہندوستان بھیجا جا سکتا ہے۔ برطانیہ کی وزیر داخلہ پریتی پٹیل کو اس پر آخری فیصلہ کرنا ہے۔ اس سے پہلے برطانیہ کی ہائی کورٹ نے بھی مالیہ کی درخواست مسترد کر دی تھی۔


اس سے پہلے آج ہی مالیہ نے ایک بار پھر حکومت سے اپنا قرض لوٹانے اور مقدموں کو بند کرنے کی فریاد ہے۔ وجے مالیہ نے کورونا وائرس چیلنج سے ملک کی معیشت کو نکالنے کے لئے نریندر مودی حکومت کے 20 لاکھ کروڑ روپے کے پیکیج پر مبارکباد دیتے ہوئے ٹوئیٹ کرکے ایک بار پھر حکومت سے ان پر قرض سوفیصد بقایا ادائیگی کی پیشکش اور اسے قبول کرنے اور ان کے خلاف تمام معاملے ختم کرنے کی اپیل کی۔

وجے مالیہ نے ٹوئیٹ میں کہا، کووڈ۔19 ریلیف پیکیج کے لئے حکومت کو مبارکباد، حکومت جتنا چاہیں اتنے نئے نوٹ چھاپ سکتی ہے، لیکن میرے جیسے چھوٹے کردار ادا کرنے والے کی پیشکش مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے جو سرکاری بینکوں سو فیصد قرض واپس کرنے کو تیار ہے۔ برائے مہربانی غیر مشروط مجھ پیسے لیجئے اور میرے خلاف سارے معاملے بند کیجیے“۔


مفرور شراب کاروباری مالیہ کی ایوی ایشن کمپنی کنگ فشر ایئر لائنس بھی بند ہو چکی ہے۔ مالیہ ہندوستان حوالگی کے خلاف لندن ہائی کورٹ میں مقدمہ ہار چکا ہے اور اب اس حکم کے خلاف برطانیہ کی سپریم کورٹ میں اپیل کی ہوئی ہے۔ وجے مالیہ نے 31 مارچ کو بھی ایک ٹوئیٹ کنگ فشر ایئر لائنز کے بینکوں سے لئے گئے قرض کو سوفیصد لوٹانے کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن سے کورونا بحران کے چیلنج کے وقت اپنی فریاد پر غور کی اپیل کی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔