1200 مسافروں کو لے جا رہی ’ویشنو دیوی اسپیشل ٹرین‘ تیز آواز کے ساتھ 2 حصوں میں منقسم، ٹل گیا بڑا حادثہ

لدھیانہ سے جیسے ہی ٹرین آگے بڑھنے لگی، اچانک ایک سلیپر کوچ سے زوردار آواز آئی۔ عینی شاہدین کے مطابق آواز اس قدر تیز تھی کہ مسافروں کو کسی بڑے دھماکہ جیسا اندیشہ ہوا۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

پنجاب کے لدھیانہ ریلوے اسٹیشن پر ہفتہ کے روز ایک بڑا ریل حادثہ ہوتے ہوتے ٹل گیا۔ ماتا ویشنو دیوی کے درشن کے لیے جا رہی تقریباً 1200 مسافروں سے بھری ’نئی دہلی-شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اسپیشل ٹرین‘ کا ایک ڈبہ اچانک اپنے ساتھ والے کوچ سے الگ ہو گیا۔ واقعہ کے دوران زور دار آواز سن کر مسافروں میں بھگدڑ اور خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ گھبرا کر ٹرین سے باہر نکل آئے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق نئی دہلی-شری ماتا ویشنو دیوی کٹرا اسپیشل ٹرین (04081) ہفتہ کی علی الصبح تقریباً 2.30 بجے نئی دہلی سے روانہ ہوئی تھی۔ صبح 8.47 بجے ٹرین لدھیانہ ریلوے اسٹیشن پہنچی۔ یہاں طے شدہ ٹھہراؤ کے بعد جیسے ہی ٹرین آگے بڑھنے لگی، ایک سلیپر کوچ سے اچانک زور دار آواز سنائی دی۔ عینی شاہدین کے مطابق آواز اتنی تیز تھی کہ مسافروں کو کسی بڑے دھماکہ کا اندیشہ ہونے لگا۔ چند لمحوں بعد معلوم ہوا کہ 2 ڈبوں کو آپس میں جوڑنے والا حصہ (کیپلر) ٹوٹ گیا ہے، جس کے باعث ایک کوچ الگ ہو گئی۔ اس کے بعد ٹرین میں سوار مسافروں کے درمیان خوف کی فضا قائم ہو گئی۔


حادثہ کے بعد متعدد مسافر اپنے اپنے ڈبوں سے باہر نکل آئے۔ لوگوں نے فوری طور پر ریلوے حکام کو واقعہ کی اطلاع دی۔ کچھ دیر کے لیے اسٹیشن پر افراتفری کا ماحول پیدا ہو گیا۔ تاہم اطمینان کی بات یہ رہی کہ ٹرین کی رفتار انتہائی کم تھی اور وہ ابھی اسٹیشن سے نکل ہی رہی تھی۔ اگر یہی واقعہ ٹرین کے تیز رفتاری سے دوڑنے کے دوران پیش آتا تو صورت حال کہیں زیادہ سنگین ہو سکتی تھی۔ ایسی حالت میں بڑے جانی نقصان اور شدید ٹرین حادثے کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اسی وجہ سے اس واقعہ کو ریلوے کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریلوے کے اعلیٰ افسران اور مقامی پولیس انتظامیہ موقع پر پہنچ گئی۔ حکام نے متاثرہ کوچ اور ٹرین کے دیگر حصوں کا معائنہ کیا اور تکنیکی جانچ کا عمل شروع کر دیا۔

لدھیانہ کے اے ڈی سی پی سمیر ورما نے موقع پر پہنچ کر صورت حال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں کسی قسم کے دھماکے یا مشتبہ سرگرمی کے شواہد نہیں ملے ہیں۔ سمیر ورما کے مطابق جب ٹرین اسٹیشن سے آگے بڑھ رہی تھی تو 2 کوچوں کو جوڑنے والا کیپلر ٹوٹ گیا، جس کے نتیجے میں ایک ڈبہ دوسرے سے الگ ہو گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ ایک تکنیکی خرابی کا معاملہ ہے اور کسی قسم کا دھماکہ نہیں ہوا۔ حکام کا کہنا ہے کہ واقعہ کی وجوہات کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے اور تکنیکی رپورٹ موصول ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ کیپلر ٹوٹنے کی اصل وجہ کیا تھی۔


فیروزپور ڈویژن کے ڈویژنل ریلوے منیجر (ڈی آر ایم) سنجیو کمار نے بتایا کہ ریلوے کے ایک کوچ کی اوسط عمر تقریباً 25 سال تصور کی جاتی ہے، جبکہ جس ڈبے سے متعلق یہ واقعہ پیش آیا اس کی عمر تقریباً 15 سال ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کسی مشینی پرزے میں ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو زور دار آواز آنا ایک فطری بات ہے، اس لیے صرف آواز کی بنیاد پر کسی نتیجے پر پہنچنا درست نہیں ہوگا۔ پورے معاملے کی تکنیکی جانچ جاری ہے۔ ڈی آر ایم کے مطابق رپورٹ آنے کے بعد یہ معلوم کیا جائے گا کہ کیپلر میں کوئی تکنیکی نقص تھا یا کسی اور وجہ سے یہ واقعہ پیش آیا۔ ریلوے کے حفاظتی معیارات کے تحت پورے معاملے کا جائزہ لیا جائے گا۔

اس درمیان ویشنو دیوی جا رہے بعض مسافروں نے دعویٰ کیا کہ متعلقہ ڈبے کو نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ٹرین کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈبے کی حالت دیکھ کر انہیں پہلے ہی کسی خرابی کا اندیشہ ہو رہا تھا۔ مسافروں کے مطابق کوچ کافی پرانا دکھائی دے رہا تھا اور انہیں لگ رہا تھا کہ اس میں کوئی تکنیکی مسئلہ موجود ہو سکتا ہے۔ واقعہ کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان کے خدشات درست ثابت ہوئے۔