بچوں پر ویکسین ٹرائل معاملہ: مودی حکومت اور بھارت بایوٹیک سے جواب طلب

دہلی ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جج جیوتی سنگھ کی بنچ نے بدھ کے روز سنجیو کمار کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایت دی۔

دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
دہلی ہائی کورٹ، تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

نئی دہلی: دہلی ہائی کورٹ نے دو سے 18 سال کی عمر کے بچوں پر کوویکسین کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے کلینیکل ٹرائل کی اجازت دینے کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کرتے ہوئے مرکزی حکومت اور بھارت بایو ٹیک سے جواب طلب کیا ہے۔ چیف جسٹس ڈی این پٹیل اور جج جیوتی سنگھ کی بنچ نے بدھ کے روز سنجیو کمار کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کے دوران یہ ہدایت دی۔ اس پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ کلینیکل ٹرائل کی اجازت دینا غیر قانونی اور آمریت ہے۔ بنچ نے مدعا علیہان کو 15 جولائی تک اپنے موقف پیش کرنے کو کہا ہے۔

خیال رہے ہندوستان کے ڈرگ کنٹرولر جنرل نے 13 مئی کو حیدرآباد میں قائم فرم کو دو سال تک کے بچوں اور 18 سال تک کی عمر کے نوعمروں پر کلینیکل ٹرائل کی اجازت دی ہے۔ منگل کو نیتی آیوگ نے بتایا تھا کہ بھارت بایوٹیک اگلے 10 سے 12 دن میں دو سے 18 سال کی عمر کے بچوں پر کلینیکل ٹرائل کے دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لئے پوری طور پر تیار ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔