وی ڈی ستیسن کا وزیر اعظم مودی کو خط، دبئی میں پھنسے ہندوستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کو فوری نکالنے کا مطالبہ
وی ڈی ستیسن کے مطابق دبئی میں پھنسے ہیلتھ کیئر ورکرز نے پوری لگن اور بہترین طریقے سے خدمات انجام دی ہیں، جس میں کووڈ-19 وبا کے دوران صحت کی خدمات فراہم کرنے میں فرنٹ لائن پر رہنا بھی شامل ہے۔

کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے وزیر اعظم نریند مودی کو ایک خط لکھ کر دبئی واقع ایرانی اسپتال میں کام کر رہے ہندوستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ حالیہ علاقائی واقعات کے باعث اسپتال بند ہو گیا ہے، جس کے بعد وہاں کام کرنے والے کئی ہندوستانی ڈاکٹروں اور نرسوں کو سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے اپنے خط میں لکھا کہ ’’میں ہندوستانی ہیلتھ ورکرز کے ایک گروپ کی جانب سے آپ سے فوری مداخلت کی درخواست کرنے کے لیے یہ خط لکھ رہا ہوں۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ کیرلم کے ہیں اور دبئی کے ایرانی اسپتال میں کام کرتے تھے، لیکن ابھی وہ بہت مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’حالیہ علاقائی واقعات کے باعث اسپتال بند ہونے کے بعد ان میں سے کئی نرسوں اور ہیلتھ کیئر ورکرز کو یو اے ای میں ویزہ سے متعلق پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس سے ان کے روزگار، وزٹ اور ڈیپینڈنٹ ویزا حاصل کرنے پر اثر پڑا ہے۔ نتیجتاً جو خاندان سالوں سے یو اے ای میں رہ رہے ہیں اور کام کر رہے ہیں وہ اب غیر یقینی صورتحال، شدید مالی تنگی اور اپنی روزی روٹی کھونے کے خوف کا سامنا کر رہے ہیں۔‘‘
وی ڈی ستیسن کے مطابق ان ہیلتھ کیئر ورکرز نے پوری لگن اور بہترین طریقے سے خدمات انجام دی ہیں، جس میں کووڈ-19 وبا کے دوران صحت کی خدمات فراہم کرنے میں فرنٹ لائن پر رہنا بھی شامل ہے۔ ہیلتھ کیئر سسٹم میں ان کے تعاون اور مقامی قوانین کی پاسداری کے ان کے بے داغ ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے، ان کی موجودہ مشکل صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔
اپنے خط میں وزیر اعلیٰ نے لکھا کہ ’’کئی متاثرہ ملازمین اس وقت اپنی گریس پیریڈ (چھوٹ کی مدت) کے خاتمے کے قریب ہیں اور انہیں ڈر ہے کہ انہیں یو اے ای چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے، جس سے ان کے مستقبل کے روزگار کے مواقع اور پروفیشنل لائسنسنگ کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ اس صورتحال نے کئی ملیالی خاندانوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، جن کی زندگی اور بچوں کی پڑھائی یو اے ای سے جڑی ہوئی ہے۔‘‘ ستیسن نے وزارت خارجہ سے درخواست کی ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ہندوستان کے سفارت خانے کے ذریعے یو اے ای انتظامیہ سے بات چیت کرے اور ان ہندوستانی شہریوں کے لیے انسانی بنیادوں پر حل تلاش کرے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
