اتراکھنڈ کے ایس آئی آر میں بھی وہی کھیل...نندلال شرما

اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کے دوران ہزاروں ووٹروں کے نام فہرست سے خارج ہوئے۔ نیپال سے بیاہ کر آنے والی خواتین اور مسلم ووٹروں کے ناموں پر اعتراضات نے انتخابی عمل کی شفافیت پر سوال کھڑے کر دیے ہیں

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر&nbsp;/ اے آئی</p></div>
i

اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ ضلع کے دھارچولا اسمبلی حلقے کے گھروڑی گاؤں کے سریش چند کی اہلیہ کویتا چند نے 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ووٹ ڈالا تھا۔ لیکن اب جاری خصوصی گہری نظرثانی، یعنی ایس آئی آر، کے دوران انتخابی فہرست میں کویتا چند کا نام برقرار رکھنے کے لیے ان کے خاندان کو خاصی دشواری کا سامنا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ دونوں کی شادی 2022 میں ہوئی تھی اور کویتا کا میکہ نیپال کے دھارچولا میں ہے۔

اتراکھنڈ میں الیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے لیے جاری کردہ شمار پرچے میں ووٹروں سے مطلوب دستاویزات کی جو فہرست دی ہے، اس کے مطابق اگر کسی شخص کی پیدائش ہندوستان سے باہر ہوئی ہو تو اسے متعلقہ ملک میں واقع ہندوستانی سفارتی مشن کی جانب سے جاری کردہ پیدائش کا رجسٹریشن سرٹیفکیٹ پیش کرنا ہوگا۔ اس کے ساتھ رجسٹریشن یا قدرتی طور پر ہندوستانی شہریت حاصل کرنے سے متعلق سرٹیفکیٹ بھی دینا ہوگا۔

سریش چند کا گاؤں کالی ندی کے قریب واقع ہے اور دوسری جانب نیپال کا دھارچولا واقع ہے۔ اتراکھنڈ کے پتھورا گڑھ، چمپاوت اور ادھم سنگھ نگر اضلاع کی سرحدیں نیپال سے ملتی ہیں۔ سریش کہتے ہیں کہ گھروڑی سے تبت کی سرحد بھی زیادہ دور نہیں اور مقامی لوگ تجارت کے لیے وہاں تک جاتے رہے ہیں۔

اتراکھنڈ ہی نہیں بلکہ بہار اور اترپردیش کے ایسے سرحدی علاقوں میں بھی ہندوستان اور نیپال کے درمیان شادی بیاہ کے رشتوں کی کئی نسلوں پر محیط روایت رہی ہے۔ لیکن ایس آئی آر میں اختیار کیے گئے نئے طریقۂ کار نے ایسے خاندانوں کے لیے مشکل صورت حال پیدا کر دی ہے۔ کانگریس کے بوتھ لیول ایجنٹ (بی ایل اے) سندر جوہری کے مطابق دھارچولا اسمبلی حلقے میں دو ہزار سے زیادہ ایسی خواتین ہیں جن کا تعلق نیپال سے ہے اور ایس آئی آر کے دوران ان کے نام ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو سکے ہیں۔ سریش چند کے مطابق صرف ان کے گاؤں کے 7 وارڈوں میں ہی کئی ایسی بہوئیں ہیں جو نیپال سے بیاہ کر آئی ہیں۔ ان کے اپنے وارڈ نمبر 7 میں ایسی 5 خواتین موجود ہیں۔ ان میں پشپا دیوی بھی شامل ہیں، جن کی شادی 2015 میں سریش چند کے بھائی سے ہوئی تھی۔


الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق 2022 میں دھارچولا اسمبلی حلقے میں ووٹروں کی مجموعی تعداد 90,798 تھی۔ 2026 میں ایس آئی آر کے بعد جاری ہونے والی مسودہ ووٹر فہرست میں یہ تعداد گھٹ کر 81,324 رہ گئی۔ کمیشن کے مطابق ایس آئی آر کے بعد یہاں 7,237 ایسے افراد بھی پائے گئے جن کی میپنگ نہیں ہو سکی۔

ریاست کی مجموعی صورت حال بھی کم تشویش ناک نہیں۔ 14 جولائی 2026 کو ایس آئی آر کی مسودہ فہرست جاری ہونے سے پہلے اتراکھنڈ میں تقریباً 79.6 لاکھ ووٹر تھے، جو ایس آئی آر کے بعد گھٹ کر 71.3 لاکھ رہ گئے۔ یعنی 8.2 لاکھ سے زیادہ نام فہرست سے باہر ہو گئے۔ کمیشن کے مطابق ریاست میں 6.3 لاکھ سے زیادہ ووٹر ’غیر حاضر یا منتقل شدہ‘ پائے گئے، جب کہ ایک لاکھ 24 ہزار سے زیادہ افراد کے نام مردہ ووٹروں کے طور پر درج ہوئے۔

اگر 2022 کے اسمبلی انتخابات کے نتائج اور ایس آئی آر کے دوران خارج کیے گئے ووٹروں کے اعداد و شمار کو ایک ساتھ رکھ کر دیکھا جائے تو ایک قابلِ ذکر تصویر سامنے آتی ہے۔ ریاست کی 70 اسمبلی نشستوں میں سے 45 ایسی ہیں جہاں خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد 2022 کے انتخاب میں کامیاب امیدوار کے ووٹوں کے فرق سے زیادہ ہے۔ 2022 میں الموڑہ اسمبلی نشست کانگریس نے محض 127 ووٹوں کے فرق سے جیتی تھی، جبکہ ایس آئی آر میں یہاں 8,947 ووٹروں کے نام خارج کیے گئے ہیں۔ جبکہ دواراہاٹ میں جیت کا فرق 182 ووٹ تھا، جبکہ خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد 8,616 ہے۔

اسی طرح باج پور میں جیت کا فرق 1,611 ووٹ تھا، جبکہ خارج کیے گئے ووٹر 28,520، سری نگر میں 587 ووٹوں کے مقابلے میں 9,819، منگلور میں 598 کے مقابلے میں 8,230، غدرپور میں 1,120 کے مقابلے میں 13,203 اور ٹہری میں 951 ووٹوں کے مقابلے میں 8,975 ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے ہیں۔


یہ صورت حال صرف پہاڑی علاقوں تک محدود نہیں۔ ریاست کے ترائی اور میدانی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں ووٹر فہرست سے خارج کیے گئے ہیں۔ جسپور میں 16,600، کچّھا میں 27,068، ہلدوانی میں 20,867، کاشی پور میں 28,701 اور دھرم پور میں 29,251 ووٹر حذف کیے گئے۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ 2026 میں مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے بعد تقریباً 90.8 لاکھ نام ووٹر فہرست سے باہر ہوئے تھے۔ ان میں تقریباً 27.16 لاکھ نام جانچ اور دعوؤں کے عمل کے بعد بھی ضمنی ووٹر فہرست میں شامل نہیں ہو سکے۔ انتخابات کے بعد کیے گئے تجزیے میں سامنے آیا کہ 49 اسمبلی نشستوں پر جانچ کے بعد خارج کیے گئے ووٹروں کی تعداد جیت کے فرق سے زیادہ تھی۔

اتراکھنڈ میں ایس آئی آر کی مسودہ فہرست جاری ہونے کے بعد فارم-7 کے ذریعے اعتراضات درج کرانے کے معاملے میں بھی ایک خاص رجحان سامنے آیا ہے۔ اتراکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر کے مطابق ادھم سنگھ نگر ضلع کی 9 اسمبلی نشستوں میں جسپور میں 6,757، کاشی پور میں 5,955، باج پور میں 1,890، غدرپور میں 6,138، رودرپور میں 5,807، کچّھا میں 10,858، سِتار گنج میں 4,154، نانک مَتہ میں 3,985 اور کھٹیما میں 2,315 فارم-7 کے ذریعے اعتراضات درج کیے گئے ہیں۔

اسی طرح نینی تال کی ہلدوانی نشست پر 7,630، ہریدوار کی جھبر یڑا نشست پر 6,607، روڑکی میں 4,801، بی ایچ ای ایل رانی پور میں 2,396، جوالاپور میں 2,834، پیران کلیئر میں 2,669، منگلور میں 2,190 اور ہریدوار دیہی نشست پر 2,298 اعتراضات درج ہوئے ہیں۔

الیکشن کمیشن کے ضوابط کے مطابق ووٹر فہرست میں شامل کوئی بھی ووٹر اپنے اسمبلی حلقے کے کسی دوسرے شخص کے نام کو شامل کرنے یا حذف کرنے کے لیے فارم-7 کے ذریعے اعتراض درج کرا سکتا ہے۔ کمیشن کے 2023 کے مینوئل کے مطابق بوتھ لیول ایجنٹ ایک دن میں زیادہ سے زیادہ 10 درخواستیں داخل کر سکتا تھا۔ تاہم گزشتہ سال ایس آئی آر کے دوران اس حد کو بڑھا کر 50 درخواستیں یومیہ کر دیا گیا۔ اس سال کے آغاز میں مغربی بنگال کے چیف الیکٹورل آفیسر کو بھیجے گئے ایک خط میں ایک دن میں فارم-7 داخل کرنے کی حد بھی مکمل طور پر ختم کر دی گئی۔ البتہ یہ شرط رکھی گئی کہ اگر کوئی اعتراض کنندہ 5 سے زیادہ دعوے یا اعتراضات داخل کرتا ہے تو اس کی لازمی جانچ ہوگی۔

اتراکھنڈ میں مسودہ ووٹر فہرست کی اشاعت کے بعد دعووں اور اعتراضات کی آخری تاریخ 13 اگست مقرر کی گئی تھی۔ 11 ستمبر تک نوٹس اور سماعت کا عمل جاری رہے گا، جبکہ 15 ستمبر کو حتمی ووٹر فہرست شائع کی جائے گی۔


نیوز پورٹل ’نیوز لانڈری‘ نے اتراکھنڈ میں داخل کیے گئے فارم-7 اعتراضات کا تجزیہ کیا تو ایک اہم بات سامنے آئی۔ پانچ افراد نے مجموعی طور پر 6,500 اعتراضات داخل کیے اور جن لوگوں کے خلاف یہ اعتراضات کیے گئے، ان سب کا تعلق اسلام سے تھا۔ رپورٹ کے مطابق اعتراضات داخل کرنے والے پانچوں افراد کا تعلق بھارتیہ جنتا پارٹی سے بتایا گیا ہے۔

کچّھا اسمبلی حلقے میں مجموعی طور پر 10,858 فارم-7 داخل کیے گئے۔ ان میں سے صرف راجیش تیواری نے 6,410 فارم-7 داخل کیے۔ روزنامہ ’ہندوستان‘ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے نیوز لانڈری نے راجیش تیواری کی شناخت بی جے پی کے بی ایل اے کے طور پر کی ہے۔

کچّھا میں تیواری نے جن لوگوں کے خلاف اعتراضات درج کیے، ان میں رئیس احمد بھی شامل ہیں، جنہیں ’منتقل شدہ‘ قرار دیا گیا ہے۔ رئیس احمد کا کہنا ہے کہ وہ 60 برس کے ہیں، کچّھا ہی میں پیدا ہوئے اور دو مرتبہ پنچایت انتخابات بھی لڑ چکے ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہریش راوت حکومت میں وہ ریاستی وزیر کا درجہ رکھتے تھے۔ ان کے مطابق انہیں اب تک کوئی نوٹس نہیں ملا اور نہ ہی بوتھ لیول افسر نے اس بارے میں اطلاع دی۔

رئیس احمد کے مطابق، کچّھا میں 45 سے 50 ہزار مسلم ووٹر ہیں اور چونکہ گزشتہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی یہ نشست ہار گئی تھی، اس لیے مسلم ووٹروں کے نام فہرست سے خارج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ نیوز لانڈری کے مطابق کچّھا کی طرح غدرپور، کھٹیما، نانک متہ، رودرپور اور جھبریڑہ میں بھی بی جے پی سے وابستہ کارکنوں کی جانب سے مسلم ووٹروں کو ہدف بناتے ہوئے بڑی تعداد میں اعتراضات درج کرائے گئے ہیں۔

اپوزیشن کی جانب سے معاملہ اٹھائے جانے کے بعد اتراکھنڈ کے چیف الیکٹورل آفیسر نے ان اعتراضات کی ڈی ڈپلیکیشن سافٹ ویئر کے ذریعے جانچ کرانے کی بات کہی۔ تاہم ایس آئی آر کے سلسلے میں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کی جانب سے تشکیل دی گئی کمیٹی کے چیئرمین منوج راوت کا کہنا ہے کہ ریاست کے سرحدی علاقوں میں ڈیموگرافک سیمیلر انٹری اور فوٹوگرافک سیمیلر انٹری کی جانچ کے لیے سافٹ ویئر استعمال کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔ ان کا سوال ہے کہ یہ سافٹ ویئر صرف اتراکھنڈ میں ہی کیوں چلایا جا رہا ہے؟ جب بوتھ کی ذمہ داری بی ایل او کی ہے تو پھر خامیاں کیسے پیدا ہوئیں؟ اگر ڈیموگرافک سیمیلر انٹری کی جانچ ضروری ہے تو یہی سافٹ ویئر پورے ملک کی ووٹر فہرست پر چلایا جانا چاہیے۔

اس سلسلے میں ایک اور اہم پہلو بھی سامنے آتا ہے۔ 24 نومبر 2025 کو سپریم کورٹ میں داخل کیے گئے حلف نامہ میں الیکشن کمیشن نے خود کہا تھا کہ اس کا ڈی ڈپلیکیشن سافٹ ویئر قابلِ اعتماد نہیں رہا اور اسے مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا تھا۔


کمیشن نے عدالت کو بتایا تھا کہ سافٹ ویئر کے نتائج کی درستگی میں فرق پایا گیا اور وہ بڑی تعداد میں مشتبہ ڈیموگرافک سیمیلر انٹریز کو ڈپلیکیٹ کے طور پر نشان زد کرنے میں ناکام رہا۔ کمیشن کے مطابق اس سافٹ ویئر کا آخری استعمال 2023 میں کیا گیا تھا۔ اتراکھنڈ میں بعض مقامات پر اپوزیشن کے دباؤ کے بعد الیکشن کمیشن نے اعتراض کنندہ اور متعلقہ ووٹر، دونوں کو نوٹس جاری کرکے سماعت کے لیے طلب کیا۔ تاہم کئی معاملات میں اعتراض کنندہ خود سماعت کے وقت حاضر نہیں ہوا۔

منگلور میں کانگریس کے بی ایل اے-1 نے انتخابی رجسٹریشن افسر کو دی گئی ایک تحریری درخواست میں بتایا کہ 17 اگست 2026 کو صبح 11 بجے سماعت مقرر تھی۔ متعلقہ ووٹر تو سماعت میں پہنچ گیا، لیکن اعتراض کنندہ موجود نہیں تھا۔ اس کے باوجود متعلقہ ووٹر کو نہ فارم-7 فراہم کیا گیا اور نہ ہی اسے دکھایا گیا۔

اسی معاملے پر منگلور کے رکن اسمبلی قاضی نظام الدین نے سوال اٹھایا کہ کیا الیکشن کمیشن نے اعتراض کنندگان کو بھی باقاعدہ نوٹس بھیجے تھے؟ اگر اعتراض کنندہ ہی سماعت میں موجود نہیں تو اس کی جانب سے دائر اعتراض پر سماعت کیسے ہو سکتی ہے؟ ان کا یہ بھی سوال ہے کہ جن ووٹروں کے دستاویزات کی پہلے جانچ اور تصدیق ہو چکی ہے، انہی دستاویزات کی دوبارہ جانچ کیا کمیشن کی اپنی سابقہ کارروائی پر سوال نہیں اٹھاتی؟

اس پورے معاملے میں سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ کئی افراد نے حلف نامہ دے کر کہا ہے کہ انہوں نے کسی ووٹر کے خلاف کوئی اعتراض دائر ہی نہیں کیا، لیکن ان کے نام سے کسی دوسرے شخص نے فارم-7 داخل کر دیا۔ ہریدوار ضلع کی جھبریڑا اسمبلی نشست پر 36 افراد کے نام سے مجموعی طور پر 1,821 اعتراضات درج کیے گئے۔ ’ہندوستان‘ کی رپورٹ کے مطابق ان میں سے 35 افراد نے ہریدوار ضلعی انتظامیہ کو حلف نامہ دے کر کہا کہ انہوں نے ایسی کوئی درخواست یا اعتراض داخل نہیں کیا۔

الیکشن کمیشن کے جاری کردہ فارم-7 میں واضح طور پر درج ہے کہ غلط معلومات یا جھوٹا اعلان دینا عوامی نمائندگی ایکٹ 1950 کی دفعہ 31 کے تحت قابلِ سزا جرم ہے۔ اس کے تحت ایک سال تک قید، جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ فارم-7 میں کسی دوسرے ووٹر کے نام پر اعتراض یا نام حذف کرنے کا مطالبہ کرنے والے درخواست گزار پر یہ ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اعتراض کی وجہ کو ثابت کرے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ اگر کسی اہل ووٹر کے خلاف کسی دوسرے شخص کے نام سے اعتراض داخل کیا گیا ہو، تو اس صورت میں ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اور اگر اعتراض کنندہ خود اس اعتراض سے انکار کر دے تو اس عمل کی شفافیت کیسے یقینی بنائی جائے گی؟


اتراکھنڈ میں جاری ایس آئی آر نے اسی بنیادی سوال کو پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے: کیا ووٹر فہرست کو درست کرنے کے نام پر کی جانے والی کارروائی واقعی غیر جانب دار، شفاف اور یکساں معیار پر مبنی ہے؟ یا پھر اس عمل میں ایسے عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں جو انتخابی فہرست کو سیاسی طور پر متاثر کر سکتے ہیں؟

حتمی ووٹر فہرست 15 ستمبر کو سامنے آئے گی۔ اس وقت تک دعووں، اعتراضات اور سماعتوں کا عمل جاری ہے۔ لیکن سرحدی علاقوں کی نیپالی بہوؤں سے لے کر مسلم ووٹروں کے خلاف بڑی تعداد میں داخل کیے گئے اعتراضات اور کسی دوسرے کے نام سے اعتراض درج کیے جانے کے الزامات تک، اتراکھنڈ کا ایس آئی آر کئی ایسے سوالات چھوڑ رہا ہے جن کے جواب صرف حتمی فہرست جاری ہونے سے نہیں ملیں گے۔ ان سوالات کا تعلق انتخابی عمل پر عوام کے اعتماد اور ووٹر فہرست کی شفافیت سے بھی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔