اتراکھنڈ: سرکاری محکموں پر 104 کروڑ روپے کا بھاری بجلی بل بقایا، یو پی سی ایل نے جاری کی وارننگ

یو پی سی ایل انتظامیہ نے واضح طور پر وارننگ دی ہے کہ اگر متعلقہ محکموں نے وقت پر ادائیگی نہ کی تو آنے والے مہینوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔

وزیر اعلیٰ اتراکھنڈ پشکر سنگھ دھامی / یو این آئی
i
user

قومی آواز بیورو

اتراکھنڈ میں سرکاری محکموں پر بجلی بل کا بقایا 104 کروڑ روپے سے زائد ہو گیا ہے۔ اتراکھنڈ پاور کارپوریشن لمیٹڈ (یو پی سی ایل) نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے بل ادا نہ کرنے والوں کی فہرست اپنے آفیشل ویب سائٹ پر عام کر دی ہے۔ کارپوریشن نے فیصلہ لیا ہے کہ اب ہر ماہ بقایا رقم کی تازہ ترین فہرست ویب سائٹ پر ڈالی جائے گی تاکہ شفافیت برقرار رہے۔

2 مارچ تک کے اعداد و شمار کے مطابق پوری ریاست میں سرکاری اداروں اور بعض نجی صنعتی یونٹوں پر مجموعی طور پر 104.57 کروڑ روپے کا بجلی بل بقایا ہے۔ سب سے زیادہ بقایا واٹر بورڈ اور محکمہ آبپاشی پر ہے۔ الموڑہ ضلع میں واٹر بورڈ کے ایک ہی کھاتے پر 10.34 کروڑ روپے کی رقم باقی ہے، جو سب سے زیادہ بقایا والے کھاتوں میں شامل ہے۔ اسی طرح ٹیہری ضلع میں ڈرنکنگ واٹر کارپوریشن پر 4.52 کروڑ روپے سے زائد کا بجلی بل بقایا ہے۔


ضلع ہری دوار کے جوالا پور ڈویژن میں پروجیکٹ مینیجر کے گنگا منصوبے پر 4.49  کروڑ اور ایک دوسرے پروجیکٹ مینیجر پر 2.16 کروڑ روپے کا بقایا ہے۔ روڑکی میں ایک نجی صنعتی یونٹ کے ذمے 3.75 کروڑ روپے کی بھاری واجب الادا رقم درج کی گئی ہے۔ دہرادون میں واٹر ورکس انجینئر کے صرف ایک ہی اکاؤنٹ پر 1.63 کروڑ روپے سے زیادہ بقایا ہیں۔ اس کے علاوہ گنگا پولیوشن کنٹرول پروجیکٹ پر بھی ایک کروڑ روپے سے زائد کی رقم باقی ہے۔

طبی تعلیم کے شعبے میں سوبن سنگھ جینا میڈیکل کالج پر 14.64  لاکھ روپے کا بجلی بل باقی ہے۔ ضلع نینی تال میں ٹیوب ویل ڈویژن پر 44.78 لاکھ، چمپاوت میں ای ای ٹیوب ویل ڈویژن کے کئی کھاتوں پر لاکھوں روپے اور بڑکوٹ میں واٹر بورڈ پر لاکھ روپے کی ادائیگی ابھی تک نہیں ہوئی ہے۔ یو پی سی ایل انتظامیہ نے واضح طور پر وارننگ دی ہے کہ اگر متعلقہ محکموں نے وقت پر ادائیگی نہ کی تو آنے والے مہینوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ کارپوریشن کا کہنا ہے کہ مسلسل بڑھتے ہوئے بقایاجات سے مالی دباؤ بڑھ رہا ہے، جس سے بجلی کے نظام اور دیکھ بھال کے کاموں پر اثر پڑ سکتا ہے۔ کارپوریشن کی اگلی جائزہ رپورٹ اپریل 2026 کے پہلے ہفتے میں جاری کی جائے گی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔