اتر پردیش کورونا کو لے کر دہلی سے خوفزدہ 

دہلی سے آنے جانے والے لوگوں کی رینڈم چیکنگ بھی کرائی جارہی ہے تاکہ انفیکشن والے لوگوں کی شناخت کی جاسکے اور ان کا علاج اسپتال میں کرایا جاسکے۔

فائل تصویر یو این آئی
فائل تصویر یو این آئی
user

یو این آئی

اترپردیش میں کورونا ٹیسٹ پر خصوصی زور دیا جارہا ہے اور دہلی میں اس وباکے قہر میں اضافہ کی وجہ سے قومی دارالحکومت کے آس پاس کے اضلاع پر خصوصی نظر رکھی جارہی ہے۔

اترپردیش کے محکمہ اطلاعات کے ایڈیشنل چیف سکریٹری نونیت سہگل نے آج یہاں کہا کہ وزیراعلی کی ہدایت پر زیادہ سے زیادہ کووڈ۔19ٹیسٹ کرانے پر زور دیا جارہا ہے۔ انہوں نے ہدایت دی ہے کہ زیادہ سے زیادہ آر ٹی پی سی آر، اینٹی جن اور ٹرونیٹ ٹیسٹ کے ذریعہ انفیکشن کی شناخت کرکے ان کا علاج کرایا جائے۔


اس وقت سب سے زیادہ ضرورت ہے کہ ماسک پہنیں، ہاتھ دھوتے رہیں، سوشل ڈسٹینسنگ رکھیں اور بھیڑ بھاڑ سے دور رہیں۔ انہوں نے کہاکہ دہلی میں کورونا انفیکشن میں اضافہ سے ریاست کے سرحدی اضلاع میں کورونا کے معاملات میں اضافہ ہوا ہے۔ دہلی کے سرحدی اضلاع میں خاص طورپر احتیا ط برتی جارہی ہے اور اسپتالوں میں تمام دستیاب کرائی جارہی ہیں۔ریاست میں ٹیسٹنگ صلاحیت میں اضافہ کیا گیا ہے۔اس بات پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے کہ دہلی کی وجہ سے آس پاس کے اضلاع میں کورونا کا انفیکشن نہ پھیلے۔ دہلی سے آنے جانے والے لوگوں کی رینڈم چیکنگ بھی کرائی جارہی ہے تاکہ انفیکشن والے لوگوں کی شناخت کی جاسکے اور ان کا علاج اسپتال میں کرایا جاسکے۔

مسٹر سہگل نے کہا کہ اقتصادی سرگرمیاں مزید تیزی سے بڑھیں اس کے لئے ریاستی حکومت مسلسل کوشش کررہی ہے۔ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے اور اقتصادی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کے لئے حکومت کی مدد سے نئی ایم ایس ایم ای اکائیاں کھل رہی ہے۔ مائکرو، چھوٹی اور درمیانہ زمرہ کی 8,18,279اکائیاں کام کررہی ہیں جن میں 51.78لاکھ مزدور کام کررہے ہیں۔ پرانی اکائیوں کو سرمایہ کے مسئلہ سے نجات دلانے کے لئے بینکوں کو کوآرڈی نیشن کرکے آتم نربھر پیکج میں 4.37لاکھ اکائیوں کو 10,854کروڑ روپے کے قرض بینکوں سے منظورکراکر تقسیم کئے جارہے ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ اس میں کوشش کی جائے گی کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو خود کے روزگار کے معاملہ میں بینکوں سے قرض دستیاب کرایا جائے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔