لو جہاد: کانپور میں ایس آئی ٹی کو ملی خاص ذمہ داری، ہندو تنظیموں کے دباؤ کا اثر!

ہندو تنظیموں کے لگاتار دباؤ پر پولس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھکر کی قیادت میں ایس آئی ٹی کو کانپور میں مبینہ لو جہاد کے واقعات کے پیچھے کسی یکساں پیٹرن یا سازش کو دیکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔

تصویر آئی اے این ایس
تصویر آئی اے این ایس
user

تنویر

اتر پردیش میں گینگسٹر وکاس دوبے معاملہ میں مافیا-پولس کی سانٹھ گانٹھ کی نایاب مثال پیش کرنے والی کانپور پولس اب بین مذہبی محبت کی شادیوں میں 'لو جہاد' کیس شازش کا سراغ تلاش کرے گی۔ کانپور پولس نے ہندو تنظیموں کے ذریعہ شادی کے بہانے جبراً مذہب تبدیلی کے الزامات کی جانچ کے لیے 8 رکنی خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ ہندو تنظیموں نے ضلع میں گزشتہ ایک مہینے میں مبینہ 'لو جہاد' کے تقریباً 11 معاملے سامنے آنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کانپور کے آئی جی موہت اگروال سے ملاقات کر جانچ کا مطالبہ کیا تھا جس کے بعد ایس آئی ٹی تشکیل دی گئی۔

کانپور میں ایک خاتون شالنی یادو کے جولائی میں ایک مسلم نوجوان فیضل سے شادی کرنے کے بعد یہ ایشو پھر سے گرمایا ہے۔ مبینہ طور پر لڑکی کے گھر والوں نے لو جہاد کا الزام عائد کیا، حالانکہ جوڑے نے جبراً مذہب تبدیلی کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے دہلی کی ایک عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ شالنی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بھی اَپ لوڈ کیا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ اس نے شادی کر لی ہے اور اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کیا ہے۔


کانپور پولس کے ایک افسر نے کہا کہ کانپور (جنوب) کے پولس سپرنٹنڈنٹ دیپک بھکر کی قیادت میں ایس آئی ٹی کو مبینہ واقعات کے پیچھے کسی یکساں پیٹرن یا طریقہ کار کو دیکھنے کے لیے کہا گیا ہے۔ خصوصی جانچ ٹیم (ایس آئی ٹی) ایسے معاملوں میں اسلامی تنظیموں کے مبینہ کردار کی بھی جانچ کرے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مبینہ لو جہاد کے زیادہ تر معاملے جوہی علاقے سے سامنے آئے ہیں۔ ایک افسر نے کہا کہ اگر کسی بھی اسلامی تنظیم کی کانپور میں 'لو جہاد' ریکٹ کی فنڈنگ میں کردار ہے، تو ایس آئی ٹی جانچ کرے گی۔ افسر نے دعویٰ کیا کہ "اس بات کا بہت حد تک امکان ہے کہ کچھ اسلامی ادارے اس طرح کے ملک مخالف کاموں میں شامل مٹھی بھر تنظیموں کو مالی امداد فراہم کر رہے ہوں۔" پولس یہ پتہ لگانے کے لیے سازش کے پہلو پر غور کر رہی ہے کہ کیا اس میں شامل نوجوانوں کو بیرون ممالک سے پیسے بھیجے جا رہے ہیں۔


ایس آئی ٹی سربراہ ایس پی دیپک بھکر نے کہا کہ نگرانی کے لیے خصوصی سواٹ ٹیم کی مدد مانگی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی نے مقامی پولس تھانوں سے رابطہ کیا ہے اور گزشتہ دو سالوں میں درج سبھی مبینہ 'لو جہاد' معاملوں کی تفصیل طلب کی ہے۔ بھکر نے کہا کہ جانچ ٹیم لنک ثابت کرنے کے لیے ایک درجن فون نمبروں سے متعلقہ ریکارڈ نکال رہی ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وہ ایسے جوڑوں، ان کے بینک کھاتوں اور ان کے گھر والوں کے بیان درج کر رہے ہیں۔ ساتھیوں کے فون نمبر بھی نکالے گئے ہیں۔

حالانکہ بھکر نے شالنی یادو سے جڑے معاملے میں کہا کہ جوڑے نے دہلی ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا اور بعد میں الزامات سے انکار کرتے ہوئے قومی راجدھانی میں تیس ہزاری کورٹ میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوئے۔ انھوں نے بتایا کہ خاتون نے کہا تھا کہ اس نے اپنی پسند کے شخص سے شادی کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ پولس کے پاس اس معاملے (شالنی کے) میں کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، جلد ہی عدالت میں ایک کلوزر رپورٹ بھیجی جائے گی۔


کانپور پولس نے ایک مبینہ 'لو جہاد' معاملے میں دو لوگوں محسن خان اور عامر کو گرفتار بھی کیا ہے۔ افسر نے کہا کہ محسن خان نے مبینہ طور پر خود کو سمیر کی شکل میں پیش کرتے ہوئے ایک لڑکی سے دوستی کی اور پھر اس سے شادی کر لی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔