اتر پردیش: یوگی حکومت میں لو جہاد کے نام پر 14 افراد کے خلاف مقدمہ درج

الزام ہے کہ پہلے سے شادی شدہ لڑکے نے دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو 30نومبر کو اس کی متوقع شادی سے قبل بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بھگا لے گیا۔

علامتی تصویر
i

مئو: اترپردیش کے ضلع مئو میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے عاشق جوڑے کے گھر سے بھاگ جانے کے بعد مئو پولس نے مبینہ لوجہاد پر کنٹرول کے دعوی کے ساتھ ریاستی حکومت کی جانب سے پاس کئے گئے تبدیلی مذہب قانون کے تحت 14افرادکے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔افسران کے مطابق لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے۔

ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولس تربھون ناتھ ترپاٹھی نے جمعہ کو بتایا کہ ’’چریا کوٹ پولس اسٹیشن کے مولنا گنج گاؤں میں دو مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لڑکی اور لڑکا اپنے گھر سے فرار ہوگئے۔لڑکا پہلے سے شادی شدہ ہے۔ اس ضمن میں پولس نے تبدیلی مذہب قانون ایکٹ کے دفعات 366، 506 اور 3/5 کے تحت مقدمہ درج کر کے معاملے میں کارروائی شرو ع کردی ہے۔


الزام ہے کہ پہلے سے شادی شدہ لڑکے نے دوسرے مذہب سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو 30نومبر کو اس کی متوقع شادی سے قبل بہلا پھسلا کر اپنے ساتھ بھگا لے گیا۔اہل خانہ کو جیسے ہی اس کا پتہ چلا، انہوں نے اس کی اطلاع پولس کو دی۔لڑکی کے والد کی جانب سے تحریر دئیے جانے پر پولس نے اس ضمن میں ایف آئی آر درج کی ہے۔ جوڑے کا ابھی تک کوئی سراغ نہیں لگ سکا ہے۔ پولس انہیں تلاش کررہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔