یوپی: سابق ریاستی وزیر رام آسرے کشواہا کی 13 سال بعد گھر واپسی، بی جے پی چھوڑ سماجوادی پارٹی میں ہوئے شامل

اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’آج کے دن بہت ذمہ دار، سینئر، قابل احترام اور معزز رام آسرے کشواہا ہماری پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے آنے سے پی ڈی اے کی طاقت مزید مضبوط ہوگی۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>سابق ریاستی وزیر رام آسرے کشواہا کا سماجوادی پارٹی میں استقبال کرتے ہوئے اکھلیش یادو (ویڈیو گریب)</p></div>
i

یوپی کے سابق وزیر رام آسرے کشواہا نے بی جے پی چھوڑ دی ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی (ایس پی) کا دامن تھام لیا ہے۔ تقریباً 13 سال بعد ان کی سماجوادی پارٹی میں واپسی ہوئی ہے۔ ان کی واپسی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یوپی میں آئندہ اسمبلی انتخاب کو لے کر سیاسی ہلچل تیز ہے۔ رام آسرے کشواہا کانپور کے رہنے والے ہیں۔ انہوں نے سیاسی سفر کی شروعات بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) سے کی تھی۔ 1996 میں وہ بی ایس پی کے ٹکٹ پر رکن اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ سماجوادی پارٹی میں شامل ہوئے۔ اس دوران انہیں اہم ذمہ داری ملی۔ وہ پارٹی کے قومی جنرل سکریٹری بھی رہے۔ انہیں ملائم سنگھ یادو کا قریبی بھی مانا جاتا تھا۔

واضح رہے کہ رام آسرے کشواہا پسماندہ طبقہ سے آتے ہیں۔ طویل عرصے سے اترپردیش کی سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ انہوں نے تنظیم میں بھی کام کیا ہے۔ حکومت میں بھی ذمہ داری سنبھالی ہے۔ ان کی سیاسی شناخت او بی سی رہنما کے طور پر رہی ہے۔ رام آسرے کشواہا کی سماجوادی پارٹی میں واپسی کو لے کر پارٹی کے اندر بھی بات ہو رہی ہے۔ وہ پہلے پارٹی کی تنظیم میں بڑی ذمہ داری سنبھال چکے ہیں۔ ایسے میں ان کا پرانا سیاسی تجربہ پارٹی کے لیے اہم ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر اکھلیش یادو نے کہا کہ ’’آج کے دن بہت ذمہ دار، سینئر، قابل احترام اور معزز رام آسرے کشواہا ہماری پارٹی میں شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے آنے سے پی ڈی اے کی طاقت مزید مضبوط ہوگی۔‘‘


قابل ذکر ہے کہ رام آسرے کشواہا کی سماجوادی پارٹی میں واپسی کو اسمبلی انتخاب سے قبل اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ وہ پہلے بھی پارٹی کی تنظیم میں اہم کردار ادا کر چکے ہیں اور طویل عرصے تک سیاست میں سرگرم رہے ہیں۔ پارٹی میں واپسی کے بعد کشواہا نے کہا کہ انہیں آج بھی ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیتا جی ملائم سنگھ یادو ان کے درمیان موجود ہیں۔ انہوں نے اکھلیش یادو کو بھی وہی مقام اور احترام ملنے کی بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں احترام ہوگا وہیں کچھ ملے گا، جہاں احترام نہیں ہوگا وہاں کچھ نہیں ملے گا، خواہ سیاست ہو، رشتہ داری ہو یا کاروبار۔ ساتھ ہی انہوں نے اپنے حامیوں سے کہا کہ جب تک اکھلیش یادو کو وزیر اعلیٰ نہیں بنائیں گے، تب تک گھر بیٹھ کر آرام نہیں کریں گے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔