برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرنے والے بی جے پی وزیر کو نوٹس جاری

اتر پردیش بی جے پی کے صدر سوتنتر دیو سنگھ نے ریاستی وزیر رگھوراج سنگھ کے متنازعہ بیان پر انھیں نوٹس جاری کرتے ہوئے ایک ہفتہ کے اندر جواب دینے کے لیے کہا ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

برقع پہننے والی مسلم خواتین کو ’راون کی بہن‘ بتانے والے بی جے پی لیڈر رگھو راج سنگھ کو پارٹی نے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ یوگی حکومت میں وزیر رگھو راج سنگھ کے ذریعہ برقع پہننے والی خواتین کو راکششوں کی نسل سے بتائے جانے کے بعد کافی تنازعہ پیدا ہو گیا تھا اور انھیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا۔ اس متنازعہ بیان کو دیتے ہوئے نوٹس میں پارٹی نے رگھو راج سنگھ پر پارٹی کی پالیسیوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے اور ان کے بیان پر وضاحت طلب کی گئی ہے۔

رگھو راج سنگھ کا بیان وائرل ہونے کے بعد اتر پردیش بی جے پی صدر سوتنتر دیو سنگھ نے اسے سنگین ڈسپلن شکنی قرار دیتے ہوئے وجہ بتاؤ نوٹس جاری کیا ہے۔ رگھو راج سنگھ کو ایک ہفتے کے اندر اس نوٹس کا جواب دینا ہے۔ نوٹس اس بات سے بھی ناراضگی کا نتیجہ ہے کہ رگھوراج سنگھ نے برقع پر متنازعہ بیان دیتے ہوئے اسے ممنوع بنائے جانے کا مطالبہ مودی حکومت سے کیا تھا۔

واضح رہے کہ برقع پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بی جے پی وزیر نے کہا تھا کہ ’’مسلم عورتیں برقع پہنتی ہیں کیونکہ وہ راون کی بہن شوپرنکھا کی نسل سے ہیں۔ اور اب اس برقع کا استعمال دہشت گردوں کے ذریعہ کیا جانے لگا ہے، لہٰذا اس پر پابندی عائد کی جانی چاہیے۔‘‘ یہ باتیں رگھو راج سنگھ نے میڈیا سے بات چیت کے دوران کہی تھیں۔

میڈیا سے بات کرتے ہوئے رگھو راج سنگھ نے تفصیلی طور پر بتایا تھا کہ ’’برقع پہننے کی رسم عرب سے ہندوستان آئی ہے۔ اس کے پیچھے کا مقصد یہ ہے کہ مسلم خواتین اپنا چہرہ چھپا سکیں، ایسا اس لیے کیونکہ بھگوان لکشمن نے راون کی بہن ’شوپرنکھا‘ کی ناک کاٹ دی تھی۔ اس کے بعد وہ برقع پہن کر وہاں سے چلی گئی تھی۔ صرف راکششوں کی نسل کے لوگ ہی برقع پہن سکتے ہیں۔ کوئی بھی عام شخص برقع نہیں پہن سکتا۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’میں مودی حکومت سے اس برقع پر پابندی عائد کرنے کی اپیل کروں گا کیونکہ برقع پہن کر دہشت گرد ہمارے ملک میں گھس جاتے ہیں۔‘‘

سری لنکا کا تذکرہ کرتے ہوئے رگھو راج سنگھ نے کہا تھا کہ وہاں برقع پر پوری طرح سے پابندی ہے اس لیے ہندوستان میں بھی اس پر پابندی لگانے میں کوئی دقت نہیں۔ انھوں نے کہا تھا کہ ’’جب سب کھلے میں رہیں گے تو لوگوں کو پہچاننے میں آسانی ہوگی کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں۔‘‘ وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف بیان بازی کرنے والوں کو رگھو راج سنگھ نے نصیحت دی کہ ’’اگر کوئی ڈنڈے سے مارنے کی بات کرے گا تو ہم اسے جوتوں سے ماریں گے، چھوڑیں گے نہیں۔‘‘

next