یوپی اسمبلی انتخابات: چھٹے مرحلے میں یوگی حکومت کے 5 وزرا کا سخت امتحان

ضلع سدھارتھ نگر کے اٹو اسمبلی حلقے سے ریاستی حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر ستیش چندر دویدی اس بار پھر انتخابی میدان میں ہیں۔ یہاں پر بی جے پی اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔

یوگی آدتیہ ناتھ / ٹوئٹر
یوگی آدتیہ ناتھ / ٹوئٹر
user

یو این آئی

بستی: اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں یوگی حکومت کے پانچ وزرا کا وقار داؤ پر ہے۔ وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی، وزیر تعلیم ڈاکٹر ستیش چندر دویدی، وزیر صحت جئے پرتاپ سنگھ، مملکتی وزیر شری رام چوہان اور مملکتی وزیر جئے پرکاش نشاد نے اپنے انتخابی حلقے میں جیت کے لئے پوری طاقت صرف کر دی ہے۔ سب کی نگاہیں یوگی کے وزراء کی سیٹوں پر مرکوز ہیں۔

ضلع سدھارتھ نگر کے اٹو اسمبلی حلقے سے ریاستی حکومت کے وزیر تعلیم ڈاکٹر ستیش چندر دویدی اس بار پھر انتخابی میدان میں ہیں۔ یہاں پر بی جے پی اور سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے درمیان کانٹے کی ٹکر ہے۔ ایس پی امیدوار ماتا پرساد پانڈے پوری شد و مد کے ساتھ انتخابی میدان میں ہیں۔ بانسی اسمبلی حلقے سے ریاستی حکومت کے وزیر صحت جئے پرتاپ سنگھ میدان میں ہیں۔ ان کا سامنا ایس پی کے مونو دوبے سے ہے۔ بانسی اسمبلی سیٹ سے کانگریس امیدوار کرن شکلا اور بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) امیدوار رادھے شیام پانڈے بھی جیت کا دعوی کر رہے ہیں۔


گورکھپور کے کھجنی (محفوظ) اسمبلی حلقے سے مملکتی وزیر شری رام چوہان انتخابی میدان میں ہیں۔ وہ ضلع سنت کبیر نگر کی دھنگھٹا اسمبلی حلقے سے ایم ایل اے ہیں۔ کھجنی اسمبلی حلقے سے مقابلہ سہ رخی ہوگا لیکن اپوزیشن شری رام چوہان کو باہری امیدوار بتا کر ان کے خلاف ہوا بنانے کے لئے کوشاں ہیں۔

ضلع دیوریا کی رودر پور اسمبلی سے مملکتی وزیر جئے پرکاش نشاد بی جے پی امیدوار ہیں۔ رودرپور اسمبلی سے ایس پی نے رامبھوال نشاد کو انتخابی میدان میں اتارا ہے جبکہ بی ایس پی نے سریش تیواری پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ تیواری برہج اسمبلی حلقے سے بی جے پی ایم ایل اے ہیں۔ اس بار ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے بی ایس پی کا دامن تھام لیا اور بی ایس پی کے ٹکٹ پر انتخابی میدان میں ہیں۔


ضلع کے پتھر دیوا اسمبلی کی لڑائی انتہائی دلچسپ اور سخت ہے۔ یہاں وزیر زراعت سوریہ پرتاپ شاہی انتخابی میدان میں ہیں، وہیں ایس پی نے برہما شنکر ترپاٹھی کو انتخابی میدان میں اتارا ہے۔ دونوں پارٹیوں کے امیدواروں کے درمیان کافی دلچسپ مقابلہ ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔