دہلی میں 10 اکتوبر کو شہری بدامنی کا خدشہ، اقوام متحدہ نے اپنے ملازمین کے لیے جاری کی خفیہ ایڈوائزری

اقوام متحدہ نے دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج کے پیش نظر اپنے ملازمین کو شہری بدامنی، تشدد اور لوٹ مار کے خدشات سے خبردار کیا۔ ایڈوائزری میں غیر ضروری سفر سے گریز اور گھر سے کام کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

وشو دیپک

نئی دہلی: ہندوستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے 10 اکتوبر کو دہلی میں مجوزہ احتجاج کے پیش نظر اپنے ملازمین کے لیے ایک خفیہ ایڈوائزری جاری کی ہے، جس میں ممکنہ شہری بدامنی، تشدد، لوٹ مار اور آتش زنی کے خدشات سے خبردار کیا گیا ہے۔ ’نیشنل ہیرالڈ‘ کو موصول ہونے والی دستاویز کے مطابق، ایڈوائزری میں ملازمین کو حالات پر نظر رکھنے اور اپنی حفاظت کے لیے ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران اور اس کے بعد پیدا ہونے والی بدامنی وسیع علاقے میں پھیل سکتی ہے، جس سے ٹریفک متاثر ہونے اور عوامی تحفظ کو خطرات لاحق ہونے کا اندیشہ ہے۔ ملازمین کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات اور تازہ ترین اطلاعات پر عمل کریں۔

یہ ایڈوائزری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر سی جے پی اور دیگر طلبہ تنظیموں کے احتجاج کی اپیل کی گئی ہے۔ یہ تحریک ابتدا میں امتحانات کے پرچے لیک ہونے کے خلاف شروع ہوئی تھی، لیکن بعد میں اس میں انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات بھی شامل ہوگئے۔ مظاہرین اب ’ووٹ چوری‘ کا معاملہ اٹھاتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

سی جے پی اور طلبہ تنظیموں نے طلبہ، نوجوانوں اور عام لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہفتے کے روز جنتر منتر پہنچیں اور طویل احتجاج کے لیے تیار رہیں۔ تنظیم کے چیف ترجمان سورَو داس کے مطابق، تحریک کا مقصد صرف چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ نہیں، بلکہ الیکشن کمیشن اور تعلیمی نظام میں اصلاحات کا مطالبہ بھی ہے۔


رپورٹ کے مطابق، مرکزی حکومت نے احتجاج کے پیش نظر دہلی اور آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی سخت کردی ہے۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہلی میں تقریباً 50 ہزار سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ شہر کے اہم داخلی راستوں پر نگرانی بڑھانے، چیک پوائنٹس قائم کرنے اور سرحدی مقامات پر سکیورٹی سخت کرنے کی بھی اطلاعات ہیں۔ احتجاج سے پہلے ہزاروں طلبہ اور کارکنوں کو احتیاطی طور پر حراست میں لیے جانے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں۔

اقوام متحدہ کی ایڈوائزری میں ملازمین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ شہری بدامنی سے متعلق میڈیا رپورٹس، مقامی ریڈیو اور دہلی پولیس کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے تازہ معلومات حاصل کرتے رہیں۔ انہیں گاڑی کے دروازے مقفل رکھنے اور مظاہرین کے ساتھ بحث یا تصادم سے بچنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ ایڈوائزری کے مطابق، مظاہرین کے قریب پہنچنے پر ان کی تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے کشیدگی بڑھ سکتی ہے۔

مزید کہا گیا ہے کہ ممکنہ لوٹ مار یا تشدد سے متاثرہ علاقوں سے دور رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ ’نیشنل ہیرالڈ‘ سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ ملازمین کو گھر پر رہنے اور گھر سے کام کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔

دوسری جانب، کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن جماعتوں نے بھی گیانیش کمار کے خلاف اپنی مہم تیز کردی ہے۔ اپوزیشن نے ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف دہلی میں مسلسل تین دن احتجاج کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔