آبنائے ہرمز کو ’بائی پاس‘ کرنے والی یو اے ای کی پائپ لائن کا 50 فیصد کام مکمل

صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر سلطان احمد الجابر کا کہنا ہے کہ ’’یو اے ای نے ایک دہائی سے قبل بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے گا، جو آبنائے ہرمز سے بچ کر نکل سکے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>محمد بن زاید النہیان، تصویر بشکریہ&nbsp;@MohamedBinZayed</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ایران کی جانب سے ’آبنائے ہرمز‘ پر عائد کی گئی پابندی کے بعد یو اے ای نئی مغرب-مشرق تیل پائپ لائن کو بنانے کے لیے تیزی سے کام کر رہا ہے۔ اس پائپ لائن کو آبنائے ہرمز سے بچ کر نکلنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے اور اس کا کام تقریباً 50 فیصد تک مکمل ہو چکا ہے۔ صنعت اور جدید ٹیکنالوجی کے وزیر اور ’اے ڈی این او سی‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور گروپ کے سی ای او ڈاکٹر سلطان احمد الجابر نے کہا کہ ’’اس منصوبے کا تعمیری کام تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، تاکہ اسے 2027 کی مقررہ تاریخ تک مکمل کیا جا سکے۔‘‘

بدھ (20 مئی) کو اٹلانٹک کونسل کی جانب سے رکھے گئے ایک لائیو-اسٹریم پروگرام کے دوران الجابر نے کہا کہ ’’یہ منصوبہ پہلے ہی تقریباً 50 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور ہم اسے 2027 تک مکمل کرنے کی سمت میں تیزی سے کام کر رہے ہیں۔‘‘ یہ پائپ لائن یو اے ای کی اس طویل مدتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنا ہے۔ واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا میں تیل کی ترسیل کے سب سے اہم راستوں میں سے ایک ہے۔


الجابر کا کہنا ہے کہ ’’دنیا کی زیادہ تر توانائی اب بھی بہت کم ’چوک پوائنٹس‘ سے ہو کر گزرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای نے ایک دہائی سے قبل بھی یہ فیصلہ کیا تھا کہ وہ ایسے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کرے گا، جو آبنائے ہرمز سے بچ کر نکل سکے۔‘‘ یو اے ای نے خلیج عمان کے ساحل پر واقع فجیرہ کے راستے برآمدات کے بنیادی ڈھانچے میں بھاری سرمایہ کاری کی ہے۔ اس سے خام تیل کی کھیپ کو آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔

واضح رہے کہ یہ معلومات تب سامنے آئیں جب گزشتہ ہفتے ابوظہبی کے ولی عہد اور ابوظہبی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین شیخ محمد بن زاید النہیان نے اے ڈی این او سی بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے دوران اے ڈی این او سی کو مغرب-مشرق پائپ لائن منصوبے پر تیزی سے کام کرنے کی ہدایت دی تھی۔


قابل ذکر ہے کہ 2027 میں شروع ہونے کے بعد یہ نئی پائپ لائن فجیرہ کے راستے اے ڈی این او سی کی برآمدی صلاحیت کو دوگنا کر دے گی۔ موجودہ ابوظہبی کروڈ آئل پائپ لائن، جسے ’حبشان-فجیرہ پائپ لائن‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ابھی روزانہ 1.8 ملین بیرل تک تیل پہنچا سکتی ہے۔ علاقائی کشیدگی بڑھنے کی وجہ سے اس پائپ لائن کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔