ٹویشا شرما موت معاملہ: دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد آخری رسومات ادا، اہل خانہ انصاف کے منتظر

ٹویشا شرما کی موت معاملے میں دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد بھوپال میں آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ اہل خانہ نے انصاف کی امید ظاہر کرتے ہوئے غیر جانبدار جانچ کا مطالبہ کیا ہے

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نوئیڈا کی رہنے والی سابق ماڈل اور اداکارہ ٹویشا شرما کی موت کے معاملے میں دوسرے پوسٹ مارٹم کے بعد اتوار کو بھوپال میں ان کی آخری رسومات ادا کر دی گئیں۔ ٹویشا شرما 12 مئی کو مدھیہ پردیش کے بھوپال شہر میں اپنے سسرال والے گھر میں مردہ پائی گئی تھیں۔ ان کے اہل خانہ نے جہیز کے لیے ہراسانی اور خودکشی پر اکسانے کے الزامات عائد کیے ہیں، جبکہ سسرال والوں نے ان الزامات سے انکار کیا ہے۔

دہلی کے آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے دوسرے پوسٹ مارٹم کا عمل مکمل کیا، جس کے بعد شام پانچ بجے کے بعد بھوپال کے بھدبھدا وشرام گھاٹ پر آخری رسومات ادا کی گئیں۔ اس موقع پر جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ ٹویشا شرما کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد غم سے نڈھال نظر آئے۔ مذہبی رسومات کی ادائیگی کے بعد چتا کو آگ دی گئی۔


آخری رسومات سے پہلے ٹویشا شرما کے والد نو ندھی شرما نے کہا کہ آج وہ ایک بیٹی، بہن، دوست اور ایک معصوم زندگی کو الوداع کہنے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خوابوں کے ساتھ نئی زندگی شروع کرنے والی ان کی بیٹی بہت جلد دنیا چھوڑ گئی۔ انہوں نے کہا کہ والدین کی خالی آنکھیں، ٹوٹے خواب اور انصاف کے انتظار میں گزرتا ہر لمحہ سماج کے سامنے کئی سوال کھڑے کرتا ہے۔

خیال رہے کہ ٹویشا شرما کی موت 12 مئی کو بھوپال کے کٹارا ہلز علاقے میں واقع ان کے سسرال کے گھر میں ہوئی تھی۔ خاندان کا الزام ہے کہ انہیں جہیز کے لیے مسلسل ہراساں کیا جا رہا تھا اور اسی دباؤ نے انہیں انتہائی قدم اٹھانے پر مجبور کیا۔ دوسری جانب سسرال والوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ٹویشا شرما منشیات کی لت سے متاثر تھیں۔

پولیس نے ٹویشا شرما کے شوہر سمرتھ سنگھ اور ان کی ساس گری بالا سنگھ کے خلاف جہیز کے لیے ہراسانی کے الزام میں مقدمہ درج کیا ہے۔ سمرتھ سنگھ پیشے سے وکیل ہیں، جبکہ گری بالا سنگھ سابق ضلع جج رہ چکی ہیں۔


سمرتھ سنگھ تقریباً 10 دن تک مفرور رہنے کے بعد 22 مئی کو جبل پور سے گرفتار کیے گئے تھے۔ بھوپال کی ایک عدالت نے 23 مئی کو انہیں سات دن کی پولیس ریمانڈ پر بھیج دیا۔

اس سے پہلے ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ پر سوال اٹھائے گئے تھے، جس کے بعد مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی ہدایت پر دوسرے پوسٹ مارٹم کا فیصلہ کیا گیا۔ اہل خانہ مسلسل غیر جانبدار جانچ اور انصاف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔