سی بی ایس ای چیئرمین اور سکریٹری کا تبادلہ مودی حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف ہے: این ایس یو آئی
این ایس یو آئی صدر ونود جاکھڑ کا کہنا ہے کہ ’مودی حکومت نے مان لیا ہے کہ سی بی ایس ای میں گڑبڑیاں اور گھوٹالے ہوئے ہیں۔ یہ این ایس یو آئی کی بڑی جیت ہے۔ ہم نے طلبا کے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔‘

نئی دہلی: سی بی ایس ای امتحانات کے بعد سامنے آنے والی مبینہ خامیوں، بے ضابطگیوں اور انتظامی کوتاہیوں کے درمیان مرکز کی مودی حکومت کی جانب سے سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سکریٹری کے تبادلہ سے متعلق فیصلے پر سیاسی اور تعلیمی حلقوں میں بحث تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کی طلبا تنظیم ’نیشنل اسٹوڈنٹ یونین آف انڈیا‘ (این ایس یو آئی) نے اس قدم کو اپنی جدوجہد کی بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے ایک ویڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت نے بالآخر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ سی بی ایس ای کے نظام میں سنگین بے ضابطگیاں اور گھوٹالے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق چیئرمین اور سکریٹری کے تبادلے سے یہ واضح ہو چکا ہے کہ امتحان کے عمل میں پیدا ہونے والے مسائل محض اتفاقی نہیں تھے بلکہ انتظامی ناکامیوں کا نتیجہ تھے۔ ونود جاکھڑ کی یہ ویڈیو کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کی ہے۔
اس ویڈیو میں ونود جاکھڑ کہتے نظر آ رہے ہیں کہ این ایس یو آئی نے طلبا کے مسائل کو اجاگر کرنے کے لیے مسلسل سڑکوں پر احتجاج کیا اور مختلف سطحوں پر تحریک چلائی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اپوزیشن کے قائد راہل گاندھی نے بھی پہلے دن سے طلبا کے مسائل کو اٹھایا اور ان کی آواز بننے کی کوشش کی۔ این ایس یو آئی صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’مودی حکومت نے مان لیا ہے کہ سی بی ایس ای میں گڑبڑیاں اور گھوٹالے ہوئے ہیں۔ یہ این ایس یو آئی کی بڑی جیت ہے۔ ہم سڑکوں پر رہے، احتجاج کیا اور طلبا کے حقوق کے لیے مسلسل آواز بلند کی۔ راہل گاندھی شروع سے ہی طلبا کے ساتھ کھڑے رہے ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ سی بی ایس ای کے چیئرمین اور سکریٹری دونوں کا تبادلہ دراصل حکومت کی ناکامیوں کا اعتراف ہے۔ ان کے مطابق اگر امتحان کے نظام میں سب کچھ درست ہوتا تو اتنی بڑی انتظامی تبدیلیوں کی ضرورت پیش نہ آتی۔
ونود جاکھڑ نے یقین دلایا کہ این ایس یو آئی مستقبل میں بھی طلبا کے مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ تنظیم عدالت، پارلیمنٹ اور سڑک، ہر سطح پر طلبا کے حقوق کی لڑائی لڑتی رہے گی اور کسی بھی ناانصافی یا بے ضابطگی کے خلاف آواز اٹھانے سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
