ایران میں فضائی حملے کے باعث پھیل رہا زہریلا دھواں، ’سیاہ بارش‘ ہو سکتی ہے خطرناک: سنجے راؤت

سنجے راؤت کے مطابق توانائی کے بحران سے بھی بڑا خطرہ ماحولیات اور صحت سے منسلک ہے، جو آہستہ آہستہ ہندوستان کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ جنگ کے باعث ایران میں پیدا ہوئے ’سیاہ بادل‘ بم کے برابر ہی خطرناک ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>سنجے راؤت / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا معاملہ پیر (30 مارچ) کو راجیہ سبھا میں اٹھایا گیا۔ ایران-اسرائیل جنگ کے خطرناک اثرات پر بات کرتے ہوئے راجیہ سبھا رکن سنجے راؤت نے اسے ایک سنگین عالمی اور ماحولیاتی مسئلہ بھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اب ایک ماہ سے زائد وقت سے جاری ہے اور اس کے نتائج صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر دکھائی دے رہے ہیں۔ اس جنگ کے باعث دنیا میں کئی طرح کے بحران پیدا ہوئے ہیں۔

سنجے راؤت نے راجیہ سبھا میں اپنی تقریر کے دوران کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے پوری دنیا میں ایندھن اور ایل پی جی جیسی ضروری چیزوں کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ راجیہ سبھا رکن کے مطابق توانائی کے بحران سے بھی بڑا خطرہ ماحولیات اور صحت سے منسلک ہے، جو آہستہ آہستہ ہندوستان کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ جنگ کے باعث ایران میں پیدا ہوئے ’سیاہ بادل‘ بم کے برابر ہی خطرناک ہیں۔ اگرچہ ہندوستان پر میزائل یا بم نہیں گر رہے ہوں، لیکن ایران کے اوپر چھائے ’سیاہ بادل‘ ہندوستان کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔


راجیہ سبھا رکن نے بتایا کہ ایران کی راجدھانی تہران اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں فضائی حملوں کی وجہ سے آئل ریفائنری اور گیس کے ذخائر میں شدید آگ لگی ہے، جس کی وجہ سے بڑی مقدار میں زہریلا دھواں فضا میں پھیل گیا ہے۔ اس دھوئیں میں سلفر، نائٹروجن آکسائڈ اور دیگر خطرناک کیمیکل شامل ہیں، جو صحت کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔ سنجے راؤت کے مطابق ایران کے لوگوں کو سانس لینے میں دقت ہو رہی ہے۔ کیونکہ ایران کے کچھ حصوں میں گزشتہ کل ’بلیک رین‘ (سیاہ بارش) کے واقعات سامنے آئے ہیں، جو زہریلے مادوں سے بھری ہوئی ہیں۔

راجیہ سبھا میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی وارننگ کا حوالہ دیتے ہوئے سنجے راؤت نے کہا کہ یہ صورتحال انسانی صحت کے لیے انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے ماہرین کے حوالے سے اس خدشے کا اظہار کیا کہ یہ آلودگی ملکوں کی سرحدوں تک محدود نہیں رہے گی۔ مستقبل میں ہندوستان کی مغربی ریاستوں جیسے کہ گجرات، راجستھان اور پنجاب پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ہوا کا معیار خراب ہو سکتا ہے بلکہ ’تیزابی بارش‘ (ایسڈ رین) کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے، جس سے فصلوں کی تباہی، مٹی کے آلودہ ہونے اور لوگوں میں سانس کی بیماریوں اور کینسر جیسے سنگین مسائل بڑھنے کا اندیشہ ہے۔


’سیاہ بادل‘ جیسی سنگین صورتحال پر سنجے راؤت نے حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں ماحولیاتی ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے۔ یہ کمیٹی ہندوستان پر پڑنے والے ممکنہ اثرات کا سائنسی جائزہ لے۔ خاص طور پر ہندوستان کی مغربی ریاستوں میں ہوا کے معیار کی نگرانی بڑھائی جائے اور الرٹ سسٹم تیار رکھا جائے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ہندوستان کو بین الاقوامی فورمز پر اس ماحولیاتی بحران کے خلاف آواز بھی اٹھانی چاہیے تاکہ جنگ جلد ختم ہو۔