آج کا سپریم کورٹ ’سپریم فیلیور‘ ہے، سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری کا تلخ تبصرہ

سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری ایم اے بے بی نے کہا کہ سپریم کورٹ اگر از خود نوٹس لے کر انھیں توہین عدالت کی سزا دیتا ہے تو وہ اسے اپنی سیاسی زندگی میں اب تک کا سب سے بڑا اعزاز تصور کریں گے۔

<div class="paragraphs"><p>سپریم کورٹ، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری، سابق رکن پارلیمنٹ اور احتجاجی مظاہروں پر پابندیوں کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کے اہم درخواست گزار ایم اے بے بی نے سپریم کورٹ کے طریقۂ کار پر پر مایوسی ظاہر کرتے ہوئے انتہائی سخت تبصرہ کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں سپریم کورٹ جس طرح اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے، اس سے لوگوں کو یہ کہنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے کہ آج کی سپریم کورٹ ’سپریم فیلیور‘ (مکمل طور پر ناکام) ہے۔ ملیالم زبان کے ایک نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے بے بی نے کہا کہ ان کے اس تبصرے کا ترجمہ کر کے سپریم کورٹ کے ججوں تک پہنچایا جانا چاہیے۔

ایم اے بے بی نے تلخ لہجہ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر سپریم کورٹ اس بیان پر از خود نوٹس لیتے ہوئے انھیں توہین عدالت کے جرم میں سزا دیتا ہے تو وہ اسے اپنی سیاسی زندگی میں اب تک کا سب سے بڑا اعزاز تصور کریں گے۔ ان کی ناراضگی اس بات پر نظر آ رہی تھی کہ ایس آئی آر اور چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاجوں کے درمیان عائد پابندیوں سے متعلق سپریم کورٹ نے جو ہدایات جاری کی تھیں، اس پر کوئی عمل نہیں کیا گیا۔


دراصل ایم اے بے بی نے دہلی میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف ایس آئی آر کے معاملے پر مجوزہ احتجاجی مظاہروں کے دوران میٹرو، ریلوے اور انٹرنیٹ خدمات پر عائد پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ گزشتہ 9 اکتوبر کو ان کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے چیف جسٹس کی بنچ نے فوری سماعت کی درخواست منظور کر لی تھی۔ معاملہ اس دن کی فہرست میں شامل نہ ہونے کے باوجود وکیل کپل سبل کے فوری سماعت کے لیے معاملے کا ذکر کرنے کے مطالبے پر عدالت نے سماعت کی تھی۔

اس معاملہ میں سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے میٹرو خدمات اور نئی دہلی و حضرت نظام الدین ریلوے اسٹیشنوں پر ٹرینوں کی آمد پر مکمل پابندی کو انتظامی اختیارات سے تجاوز قرار دیا تھا۔ عدالت نے احتجاجی مظاہروں کے دوران انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم واپس لینے، بیریکیڈنگ کم کر کے ٹریفک کی آمد و رفت کو رواں دواں رکھنے اور عام لوگوں کو کسی بھی طرح کی پریشانی نہ ہونے دینے کی ہدایات بھی دی تھیں۔ اس کے علاوہ، احتجاج کے دوران پولیس کی مبینہ زیادتی سے متعلق شکایات کے پیش نظر سپریم کورٹ نے سی سی ٹی وی فوٹیج اور ڈیجیٹل شواہد کو محفوظ رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔