آج کے حکمران ’تقسیم کی ہولناکیوں کا دن‘ مناتے ہیں مگر آزادی کے لیے دی گئی قربانیوں کو نظرانداز کرتے ہیں: ملکارجن کھڑگے
یومِ آزادی کے موقع پر کھڑگے نے حکومت پر فرقہ وارانہ سیاست کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حکمران ’تقسیم کی ہولناکیوں کی یاد کا دن‘ مناتے ہیں لیکن ملک کی آزادی کی قربانیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں

نئی دہلی: کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے جمعرات کو یومِ آزادی کے موقع پر مرکزی حکومت پر نفرت کی سیاست کرنے کا الزام لگایا اور دعویٰ کیا کہ آج کے حکمران نفرت پھیلانے کی نیت سے ‘تقسیم کی ہولناکیوں کا دن’ مناتے ہیں۔ کھڑگے نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں ترنگا لہرانے کے بعد لوگوں کو یومِ آزادی کی مبارکباد دی اور مودی حکومت پر تنقید کی۔ اس موقع پر کانگریس پارلیمانی پارٹی کی صدر سونیا گاندھی، لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی اور پارٹی کے کئی دیگر سینئر رہنما موجود تھے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کہا، ’’آپ سب کو 78ویں آزادی کے دن کی دلی مبارکباد۔ کئی دہائیوں کی جدوجہد اور لاکھوں قربانیوں کے بعد غلامی کی زنجیر ٹوٹی اور ملک آزاد ہوا۔ آزادی کی تحریک میں بے شمار ہندوستانیوں نے شہادت اور قربانی دی۔ ہم تحریک آزادی کے تمام مجاہدین کو سلام کرتے ہیں۔’’
انہوں نے کہا، ’’آزادی کی جدوجہد میں تمام ذات، مذہب، فرقے اور علاقوں کے لوگوں نے حصہ لیا اور سب نے ملک کے لیے کچھ نہ کچھ قربانی دی۔ تمام صوبے، زبان، علاقے مل کر ایک مضبوط ہندوستان بناتے ہیں۔ تنوع میں اتحاد ہماری طاقت ہے، یہ کمزوری نہیں ہے۔ کچھ لوگ آج پرچار کرتے ہیں کہ ہمیں آزادی آسانی سے مل گئی تھی لیکن حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں لوگوں نے اپنی قربانی دی، اپنا گھر بار چھوڑ کر بھٹکتے رہے۔ اچھے گھرانے کے ہونے کے باوجود زندگی کا بیشتر وقت جیل میں گزارا۔‘‘
کھڑگے نے دعویٰ کیا، ‘‘انقلابیوں کی قربانیوں کو اہمیت دینے اور ان کے خیالات پر عمل کرنے کے بجائے آج کے حکمران تقسیم کی سوچ کو ہوا دے رہے ہیں۔ وہ نفرت پھیلانے کی نیت سے ‘تقسیم کی ہولناکیوں کا دن’ مناتے ہیں۔ جنہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لیا وہ کانگریس پارٹی کو نصیحت کرتے ہیں۔ وہ ناخن کاٹ کر شہید بنتے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’سچائی یہ ہے کہ ان کی نفرت بھری سیاست نے ملک کے دو ٹکڑے کر دیے۔ یہ تقسیم انہی کی وجہ سے ہوئی۔ اپنے مفاد کے لیے جان بوجھ کر انگریزوں کی سازش کو آگے بڑھانے کا کام سنگھ پریوار نے کیا۔ اس کے ثبوت کی کمی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مرکزی حکومت پر طنز کرتے ہوئے کہا، ’’آج مودی حکومت ’ہر گھر ترنگا مہم‘ چلا رہی ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ 6 دہائیوں کے بعد انہیں توبہ کرنے کا خیال آیا ہے، اپنی غلطی کا احساس ہوا۔ اس سے پہلے انہیں ترنگا لہرانے سے پرہیز تھا۔‘‘
کھڑگے نے کہا کہ یہ ملک اگر کشمیر سے کنیا کماری اور کچھ سے کوہیما تک ایک ہے، تو یہ 140 کروڑ لوگوں کے اتحاد کی وجہ سے ہے اور اس جذبے کو پوری دنیا نے راہل گاندھی کی بھارت جوڑو یاترا کے دوران دیکھا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا، ‘‘آج ملک کے لوگ ہر گھر نوکری اور ہر گھر انصاف چاہتے ہیں... سماجی انصاف، اقتصادی انصاف، سیاسی انصاف...۔ یہ ملک اقتصادی عدم مساوات اور بیروزگاری سے نجات چاہتا ہے۔ ان مسائل سے ہمیشہ کے لیے توجہ نہیں ہٹائی جا سکتی۔ جتنا تاخیر ہوگی، مسائل اتنے ہی بڑھ جائیں گے۔’’
کھڑگے نے الزام لگایا، ’’یہ مودی حکومت کا 11 واں سال ہے، لیکن لوگوں کی زندگی بہتر ہونے کے بجائے بدتر ہوتی جا رہی ہے اور بیروزگاری، مہنگائی اور بدعنوانی سے لوگ لڑ رہے ہیں۔ لیکن حکومت اپنے انا کی وجہ سے ہر بات سے انکار کر رہی ہے۔’’ انہوں نے کہا، ‘‘جب بھی وقت آتا ہے، ہم ملک کو بچانے کے لیے آگے بڑھتے ہیں۔ ہمیں خاموش بیٹھے رہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں یہاں سے کانگریس کے کارکنوں کو پیغام دینا چاہتا ہوں۔ آپ عوام کے درمیان بنیادی مسائل پر قائم رہیں۔ عوام کی بات سنیں اور بتائیں کہ ملک میں تبدیلی کی ہوا چل رہی ہے۔’’
کھڑگے نے کہا، ’’آج لوگ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کی طرف نئی امیدوں سے دیکھ رہے ہیں۔ جب سے راہل نے بھارت جوڑو یاترا کی ہے، تب سے ملک میں ایک نیا جوش پیدا ہوا ہے اور 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں ہم نے اس کا نتیجہ حاصل کیا۔ کانگریس پارٹی اس ملک کے لوگوں کی ترقی اور بہتری کے لیے پرعزم ہے۔ ہماری ترجیح غریبوں، دلتوں، قبائلیوں، خواتین، کسانوں، کمزور طبقات، نوجوانوں اور متوسط طبقے کے لوگ ہیں۔ ہم انہیں اپنے منصوبوں کے ہدف کی صف اول میں رکھیں گے۔ ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ یہ ملک دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو اور ہم سب کانگریس پارٹی کے کارکن اور عوام اس میں برابر کا حصہ ڈال کر ملک کو بچائیں گے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
