انتخابات سے قبل گرفتاریوں کا خدشہ، ترنمول کانگریس کی کلکتہ ہائی کورٹ سے فوری مداخلت کی درخواست

ترنمول کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات سے قبل اس کے سینکڑوں کارکنان کو گرفتار کیا جا سکتا ہے، جس پر پارٹی نے کلکتہ ہائی کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے

کلکتہ ہائی کورٹ / تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

ترنمول کانگریس نے مغربی بنگال میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے عین قبل اپنے کارکنان کی ممکنہ گرفتاریوں کے خدشے کے پیش نظر کلکتہ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے دائر کی گئی ایک عرضی میں کہا گیا ہے کہ انتخابی عمل سے پہلے تقریباً 800 کارکنان کو حراست میں لیا جا سکتا ہے، جس سے انتخابی سرگرمیوں پر اثر پڑنے کا اندیشہ ہے۔

یہ عرضی ترنمول کانگریس کے سینئر رہنما اور 4 مرتبہ کے رکن پارلیمنٹ کلیان بنرجی نے دائر کی، جو پیشے کے اعتبار سے وکیل بھی ہیں۔ انہوں نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس معاملے میں فوری مداخلت کی جائے تاکہ پارٹی کارکنان کو غیر ضروری کارروائی سے بچایا جا سکے۔

کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سُجائے پال اور جسٹس پارتھ سارتھی سین پر مشتمل ڈویژن بنچ نے اس عرضی کو سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ اس معاملے کی پہلی سماعت 22 اپریل کو متوقع ہے، جو کہ 23 اپریل کو ہونے والے دو مرحلوں پر مشتمل اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے سے صرف ایک دن پہلے ہے۔


ترنمول کانگریس کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کی نگرانی اور ہدایات کے تحت ان کے متعدد کارکنان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ پارٹی کو خاص طور پر اس بات کی تشویش ہے کہ پولنگ ایجنٹس اور ووٹوں کی گنتی سے جڑے نمائندوں کو انتخابی عمل سے قبل ہی حراست میں لے لیا جائے گا، جس سے ان کی تنظیمی تیاری متاثر ہو سکتی ہے۔

ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی گزشتہ چند دنوں سے اپنی انتخابی ریلیوں میں اسی خدشے کا اظہار کر رہی ہیں۔ انہوں نے پارٹی قیادت کو ہدایت دی ہے کہ ممکنہ گرفتاریوں کی صورت میں متبادل انتظامات پہلے سے تیار رکھے جائیں تاکہ انتخابی عمل میں کوئی رکاوٹ نہ آئے۔

خیال رہے کہ ریاست میں اس بار اسمبلی انتخابات غیر معمولی سکیورٹی انتظامات کے تحت کرائے جا رہے ہیں۔ مرکزی فورسز کی 2407 کمپنیاں تعینات کی جا رہی ہیں، جن میں مرکزی مسلح پولیس فورس، انڈیا ریزرو بٹالین اور دیگر ریاستوں کی مسلح پولیس شامل ہے۔ یہ نفری مغربی بنگال پولیس اور کولکاتا پولیس کے علاوہ ہوگی، جس سے سکیورٹی کا دائرہ مزید وسیع ہو گیا ہے۔

اس تمام صورتحال کے درمیان سیاسی ماحول میں کشیدگی بڑھتی دکھائی دے رہی ہے، اور انتخابات سے پہلے کی یہ پیش رفت آئندہ دنوں میں مزید اہم رخ اختیار کر سکتی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔