ترنمول کانگریس کے بانی رکن اور سابق ریلوے وزیر مکل رائے کا 71 برس کی عمر میں انتقال
مغربی بنگال کی سیاست کے اہم رہنما اور سابق مرکزی وزیر مکل رائے طویل علالت کے بعد کولکاتا میں انتقال کر گئے۔ وہ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں میں کلیدی کردار ادا کر چکے تھے

کولکاتا: مغربی بنگال کی سیاست کے نمایاں رہنما اور سابق مرکزی وزیر مکل رائے کا طویل علالت کے بعد 71 برس کی عمر میں انتقال ہو گیا۔ انہوں نے اتوار کی دیر رات کولکاتا کے ایک نجی اسپتال میں آخری سانس لی۔ اہل خانہ کے مطابق وہ گزشتہ کئی مہینوں سے گردے سمیت مختلف عوارض میں مبتلا تھے اور ان کی صحت مسلسل گرتی جا رہی تھی۔
مکل رائے کو مغربی بنگال کی سیاست کا چانکیہ کہا جاتا تھا۔ وہ ترنمول کانگریس کے بانی اراکین میں شامل تھے اور طویل عرصے تک ممتا بنرجی کے قریبی ساتھی رہے۔ ترنمول کانگریس کے قیام سے قبل وہ کانگریس سے وابستہ تھے، تاہم ریاستی سیاست میں بدلتے حالات کے ساتھ انہوں نے اہم حکمت عملی کے ذریعے اپنی الگ شناخت قائم کی۔ ان کا سیاسی سفر اتار چڑھاؤ سے بھرپور رہا لیکن تنظیمی مہارت اور سیاسی بصیرت کے باعث وہ ہمیشہ اثر و رسوخ رکھنے والے رہنما سمجھے گئے۔
دوسری مدت کی یو پی اے حکومت کے دوران انہیں مرکز میں اہم ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ ابتدا میں وہ جہاز رانی کی وزارت میں وزیر مملکت رہے اور بعد ازاں ریلوے کی وزارت میں بھی وزیر مملکت کے طور پر خدمات انجام دیں۔ پارٹی کے اندر تنظیمی ڈھانچے کو مضبوط بنانے اور انتخابی حکمت عملی تیار کرنے میں ان کا کردار نمایاں سمجھا جاتا تھا۔
سال 2017 میں انہوں نے ترنمول کانگریس سے علیحدگی اختیار کر کے بھارتیہ جنتا پارٹی میں شمولیت اختیار کی، جس سے بنگال کی سیاست میں ہلچل مچ گئی۔ 2021 کے اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی بدلنے کے ان کے فیصلے نے سیاسی حلقوں کو چونکا دیا تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی نے انہیں کرشن نگر شمال نشست سے امیدوار بنایا، جہاں سے وہ رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ تاہم انتخابات کے فوراً بعد ان کی سیاسی سمت ایک بار پھر بدلی اور وہ دوبارہ ترنمول کانگریس میں واپس آ گئے۔
گزشتہ چند برسوں سے صحت کے مسائل کے سبب وہ عملی سیاست سے دور تھے اور عوامی تقریبات میں کم ہی دکھائی دیتے تھے۔ طویل علالت کے باعث انہوں نے سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینا تقریباً ترک کر دیا تھا۔ ترنمول کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی دونوں ادوار میں ان کی خدمات کو اہمیت دی جاتی رہی۔ ان کی وفات سے مغربی بنگال کی سیاست میں ایک عہد کا خاتمہ تصور کیا جا رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔